کاروباری آسانی اور سرحد پار تجارتی انڈیکس میں بہتری، پاکستان ایشیا میں پہلے نمبر پر آ گیا

سرحد پار تجارتی انڈیکس میں 31 درجے بہتری کے بعد پاکستان 142ویں سے 111ویں پوزیشن پر آ گیا، کاروباری آسانیاں پیدا کرنے والے پہلے دس ممالک میں بھی شامل

1183

اسلام آباد: کاروبار میں آسانیاں یقینی بنانے کے اعتبار سے شاندار کارکردگی کی بدولت سرحد پار تجارتی انڈیکس میں پاکستان کی رینکنگ میں 31 درجے بہتری آئی ہے جس کے بعد پاکستان 142ویں سے 111ویں پوزیشن پر آ گیا۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سرحد پار تجارت کو آسان بنانے کے لئے تین اہم شعبوں پر خصوصی توجہ دے رہا ہے، اس سلسلے میں ویب بیسڈ وَن کسٹمز الیکٹرانک سسٹم کے ذریعے مختلف اداروں کو آپس میں ضم کر دیا گیا ہے، برآمدی/ درآمدی کلیئرنس کے لئے مطلوبہ دستاویزات کی تعداد کم کر دی گئی ہے اور پاکستان کسٹمز کے افسران اور عملہ کی استعداد بہتر بنائی گئی ہے تاکہ وہ بلا روک ٹوک سرحدی تجارت میں اپنا فعال کردار ادا کر سکیں۔

ترجمان ایف بی آر کے مطابق سرحد پار تجارتی انڈیکس میں بہتری سے پاکستان عالمی بینک کی کاروباری آسانی 2020ء رینکنگ میں بھی 28 درجے بہتر ہو گیا ہے اور 136ویں سے 108ویں پوزیشن پر آ گیا ہے۔

اس طرح پاکستان کا شمار اُن 10 سرفہرست ممالک میں ہوتا ہے جنہوں نے کاروبار کی آسانی کے اعتبار سے 2019ء کی نسبت 2020ء کے دوران سب سے زیادہ بہتری دکھائی۔

یہ بھی پڑھیے: 

73 فیصد پاکستانی ڈیجیٹل بینکنگ سے استفادہ کرتے ہیں: سروے رپورٹ

چھ ماہ میں پاکستانیوں نے کتنے کروڑ ڈالر کے سمارٹ فون درآمد کیے؟

پاکستانی فری لانسرز نے روس، بھارت اور بنگلہ دیش کو پیچھے چھوڑ دیا

اس کامیابی کی بدولت پاکستان اصلاحات متعارف کرانے والے ممالک کی عالمی فہرست میں چھٹے اور جنوبی ایشیا میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے جہاں ملکی اور بین الاقوامی تجارت کے لئے کاروبار کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیا گیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ سرحدوں پر معاونت اور سہولت حکومت پاکستان کی جامع پالیسی میں شامل ترجیحی شعبوں میں سرفہرست ہے۔ ایف بی آر کی زیرقیادت پاکستان کسٹمز کی ان تھک کوششوں کی بدولت عالمی ادارہ تجارت کے تجارتی سہولت کے معاہدے کی دفعات کی پاسداری پر پاکستان کی کارکردگی شاندار رہی ہے جس نے سرحد پار تجارتی انڈیکس پر پاکستان کی رینکنگ بہتر بنانے میں بھی مدد دی۔

ترجمان ایف بی آر کے مطابق پاکستان کسٹمز کا ادارہ کسٹمز کنٹرول کو موثر بنانے کے لئے سرگرم عمل ہے جس کے تحت قانونی تقاضوں کے مطابق تجارت میں ہر سطح پر معاونت اور سہولت پیدا کی جا رہی ہے اور دوسری جانب قانونی تقاضوں پر مکمل طور پر یا کسی حد تک پورا نہ اترنے والی تجارت کی مکمل باز پُرس کی جا رہی ہے۔

پاکستان کسٹمز کی اس حکمت عملی کے عمدہ نتائج سامنے آئے ہیں اور اس نے گرین چینل کے ذریعے کلیئرنس کا فیصد تناسب بڑھاتے ہوئے پاکستانی برآمدات و درآمدات کے لئے سرحدوں اور بندرگاہوں پر پڑاﺅ کا وقت کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

مثال کے طور پر برآمدات سے متعلق کاغذی کارروائی کا وقت 55 گھنٹے سے کم ہو کر صرف 24 گھنٹے رہ گیا ہے جبکہ برآمدات سے متعلق قانونی تقاضے پورے کرنے کے لئے مطلوبہ وقت 75 گھنٹے سے کم ہو کر محض 24 گھنٹے تک آ گیا ہے۔

اسی طرح درآمدات سے متعلق کاغذی کارروائی پر لگنے والا وقت 143 گھنٹے سے کم ہو کر 24 گھنٹے رہ گیا ہے اور سرحد پر درآمدات سے متعلق تمام قانونی تقاضے پورے کرنے میں اب 120 گھنٹوں کے بجائے 24 گھنٹے لگتے ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ سرحد پار تجارتی انڈیکس پر پاکستان کی پوزیشن مزید بہتر بنانے کے لئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو، سرحدی خدمات کی علاقائی سطح پر بہتری کے پروگرام “رِبز” اور “پاکستان سنگل ونڈو” کی بیک وقت تکمیل پر بھی کام کر رہا ہے۔

علاقائی سطح پر سرحدی خدمات میں بہتری کے پروگرام پر طورخم، چمن اور واہگہ میں عملدرآمد کیا جا رہا ہے اور یہ پاکستان کے ان مرکزی پروگراموں میں سے ایک ہے جن کا مقصد افغانستان اور بھارت کے اہم ٹرانزٹ پوائنٹس پر سرحد پار کرنے کی سہولیات کو بہتر بنانا ہے۔

دوسری جانب سنگل ونڈو کے ذریعے ملک کے کم از کم 46 محکموں اور اداروں کو آپس میں ضم کر دیا جائے گا جس سے سرحد پار تجارت میں پیش آنے والی تمام رکاوٹیں دور ہو جائیں گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here