وزیراعظم کا جنوبی وزیرستان میں تھری جی، فور جی انٹرنیٹ سروس کھولنے کا اعلان

وانا میں کامیاب جوان پروگرام کے چیک تقسیم، قبائلی نوجوانوں کیلئے سکالرشپس دوگنا کرنے، ہر خاندان کو ہیلتھ کارڈ دینے، غریب افراد کو احساس پروگرام کے تحت مالی معاونت فراہم کرنے کی ہدایت

210

وانا: وزیراعظم عمران خان نے جنوبی وزیرستان میں تھری جی اور فور جی انٹرنیٹ سروس کھولنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی میں قبائلی اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی اولین ترجیح ہے، قبائلی اضلاع میں سکول ، ٹیکنیکل کالج اور یونیورسٹیاں بنائیں گے۔

بدھ کو وزیراعظم عمران خان نے کامیاب جوان پروگرام کے تحت وانا میں نوجوانوں میں چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو علاقے ترقی میں پیچھے رہ گئے ہیں ہماری سب سے زیادہ کوشش ہے کہ وہاں کے لوگوں کو بھی سہولیات فراہم کی جائیں اور ان علاقوں کو بھی ترقی دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ووٹ لینے نہیں آئے اور نہ ہی انتخابی مہم میں جیسے وعدے کئے جاتے ہیں ویسے وعدے کرنے آئے ہیں، پوری کوشش ہے کہ پسماندہ علاقوں کی ترقی، تعلیم اور دیگر سہولیات کی فراہمی کے لئے تمام تر اقدامات اٹھائے جائیں۔ یہاں پر سکول، کالج ، تکنیکی ادارے اور یونیورسٹیاں قائم کریں گے۔

عمران خان نے کہا کہ تعلیم اور روزگار دو بڑے چیلنجز ہیں جن سے نمٹنے کے لئے ہم نے اقدامات کرنے ہیں۔ اقتدار میں آنے سے پہلے ہم نے نمل یونیورسٹی قائم کی، اسی طرح کی یونیورسٹیاں بنانا چاہتے ہیں کیونکہ ہماری سب سے بڑی طاقت ہمارے نوجوان ہیں، نوجوانوں کو اگر اچھی اور تکنیکی تعلیم میسر آئے تو وہ اپنے خاندان اور اپنے ملک کی ترقی کا ذریعہ بنیں گے۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ وزیرستان میں پچھلے ٍ15 سالوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت تباہی ہوئی ہے۔ یہاں پر نوجوانوں کو سب سے زیادہ روزگار فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی سلسلہ میں کامیاب جوان پروگرام کے تحت یہاں آج چیک تقسیم کئے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں روزگار کی فراہمی پر ہماری خصوصی توجہ ہے۔ جنوبی بلوچستان کے لئے بھی ہم نےایک بڑا پیکج دیا ہے کیونکہ وہاں کے لوگ بھی ترقی میں پیچھے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں گے، کامیاب جوان پروگرام کے تحت اگلے سال فنڈز میں مزید اضافہ کیا جائے گا تاکہ نوجوانوں کو روزگار مل سکے۔

وزیراعظم نے کہا کہ سب ڈویژن اور ضلع کے حوالے سے جو مطالبہ کیا گیا ہے جس پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پوری طرح مشاورت کریں گے اور اس کے بعد فیصلہ ہو گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ جلدی فیصلے کی وجہ سے اور مشکلات نہ کھڑی ہو جائیں۔ یہاں سے ٹانک جانا مشکل ہے اس کا ہمیں احساس ہے۔ ہم آسانیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں اور چاہتے کہ آپ کے مسائل وانا میں حل ہوں۔ اس سلسلہ میں آپ کو جلد خوشخبری دیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ تھری جی اور فور جی کھولنے کا مطالبہ بھی جائز ہے، آج سے اس علاقے میں تھری جی اور فور جی انٹرنیٹ کی سہولت کھل جائے گی۔ نوجوانوں کا یہ مطالبہ تھا کہ موبائل فون اور انٹرنیٹ کی سہولت بہت ضروری ہے لیکن سکیورٹی کی وجہ سے مسئلہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے، وزیرستان میں بھی بھارت کی کوشش ہے کہ نوجوانوں کو پاکستان کے خلاف اکسائے، اس لئے تھری جی اور فور جی کا مسئلہ بنا ہوا تھا کیونکہ دہشت گردی میں یہ استعمال کر سکتے تھے لیکن آرمی چیف، آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل اور سکیورٹی اداروں سے اس پر بات ہوئی اور ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ یہ سہولت نوجوانوں کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ وزیرستان میں 70 فیصد افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے لئے احساس پروگرام کے تحت مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ خواتین کو گھر چلانے کے لئے مویشی فراہم کئے جائیں گے۔ نوجوانو ں کو تعلیم میں سہولت کے لئے سکالرشپس دیئے جائیں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا سوات کے لوگوں نے بھی مشکل صورت حال کا سامنا کیا تھا۔ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کا تعلق اسی علاقے سے ہے انہیں ان حالات کا بخوبی اندازہ ہے۔ یہ حکومت آپ کی حکومت ہے اور ہماری پوری کوشش ہے کہ اس علاقے کو ترقی دی جائے اور یہاں پر سہولیات فراہم کی جائیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہم اس علاقے میں زیتون کی کاشت کا انقلاب لے کر آ رہے ہیں۔ زیتون کے تیل کو برآمد بھی کر سکتے ہیں کیونکہ اس وقت ہم خوردنی تیل درآمد کرتے ہیں۔ یہ علاقہ زیتون کی کاشت کے لئے بہترین ہے۔ آئندہ ماہ یہاں زیتون کی کاشت کے لئے مہم شروع کی جائے گی۔ اس سے اتنی آمدنی ہو گی کہ یہاں کے لوگوں کو ملازمت کے لئے کراچی یا دبئی نہیں جانا پڑے گا۔ اس علاقے میں ہم سڑکیں اور دیگر سہولیات بھی فراہم کریں گے۔ ہر خاندان کو ہیلتھ کارڈ دیا جائے گا جس کے ذریعے سات لاکھ روپے تک کی علاج کی سہولت حاصل کی جا سکے گی۔

وزیراعظم نے معاون خصوصی عثمان ڈار کو ہدایت کی کہ قبائلی اور دیگر پسماندہ علاقوں کے لئے سکالرشپ دوگنا کئے جائیں جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپخونخوا سے کہا کہ پانی کے مسائل حل کرنے کیلئے چھوٹے ڈیم بنائے جائیں۔

قبل ازیں وزیراعظم نے نوجوانوں میں چیک تقسیم کئے۔ اس موقع پر گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان، وزیراعلیٰ محمود خان اور وزیراعظم کے معاون خصوصی امور نوجوانان عثمان ڈار بھی موجود تھے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here