فارن فنڈنگ کیس، سماعت ٹی وی پر براہ راست نشر کی جائے: وزیراعظم عمران خان

پارٹی سربراہوں کو بھی بٹھا کر کیس سننا چاہیے‘ کئی ممالک اپوزیشن جماعتوں کی فنڈنگ کرتے رہے لیکن تعلقات کی وجہ سے نام نہیں لے سکتے، صحافیوں سے گفتگو

37

پشاور: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس کی کھلی سماعت ہونی چاہیے اور اسے ٹی وی پر براہ راست نشر کیا جائے، پارٹی سربراہوں کو بھی بٹھا کر کیس سننا چاہیے‘ کئی ممالک اپوزیشن جماعتوں کی فنڈنگ کرتے رہے ہیں لیکن تعلقات کی وجہ سے اُن ممالک کے نام نہیں لے سکتے۔

بدھ کو جنوبی وزیرستان وانا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس اٹھانے پر اپوزیشن کا شکر گزار ہوں، یہ سب سامنے آنا چاہیے کہ تحریک انصاف اور اپوزیشن جماعتوں کی فنڈنگ کہاں سے ہوتی رہی، کئی ممالک اپوزیشن جماعتوں کو پیسے دیتے رہے، ان ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی وجہ سے نام نہیں بتا سکتا۔

یہ بھی پڑھیے: وزیراعظم کا جنوبی وزیرستان میں تھری جی، فور جی انٹرنیٹ سروس کھولنے کا اعلان

وزیراعظم نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس کی کھلی سماعت ہونی چاہیے اور اسے ٹی وی پر براہ راست دکھایا جائے، پارٹی سربراہوں کو بھی بٹھا کر کیس سننا چاہیے، اس کیس سے ساری قوم کو پتا چلے گا کہ کس نے ملک میں ٹھیک طریقے سے پیسہ اکھٹا کیا۔

انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے بھیجے گئے ترسیلات زر سے ملک چلتا ہے، میں نے شوکت خانم ہسپتال کی فنڈنگ سمندر پار پاکستانیوں سے کی، چیلنج کرتا ہوں کہ سیاسی فنڈ ریزنگ صرف تحریک انصاف نے کی۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی جماعتوں کو معلوم ہے اور مجھے بھی پتا ہے کہ فارن فنڈنگ کون سی ہے، اوورسیز پاکستانیوں کی رقوم فارن فنڈنگ نہیں ہیں۔

مولانا فضل الرحمان پر تنقید کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان مدارس کے بچوں کو استعمال کرکے حکومتوں کو بلیک میل کرتے ہیں، ان کی اربوں روپے کی جائیداد کہاں سے بن گئیں؟

وزیر اعظم کے بقول مولانا فضل الرحمان سمیت اپوزیشن این آر او کے لیے بلیک میل کر رہی ہے لیکن عوام سمجھدار ہیں وہ کسی کی چوری بچانے کے لیے نہیں نکلیں گے، اپوزیشن عوام کی سیاسی سوچ کو نہیں سمجھتے۔

ملک کے معاشی حالات پر وزیراعظم نے کہا کہ معاشی مشکلات کے باعث ہمیں اخراجات کم اور آمدنی بڑھانا تھی، اخراجات کم کرنے سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ہمیں اصلاحات کرنا تھیں جس میں دیر ہوئی کیونکہ پارلیمانی جمہوریت میں بھاری اکثریت کے بغیر اصلاحات نہیں ہو سکتیں۔

انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت صوبوں کو ساتھ ملائے بغیر کچھ نہیں کر سکتی، معاشی بدحالی اور کورونا کے باوجود ہمارے معاشی اشاریے دیگر ممالک سے بہتر ہیں، کورونا کے باوجود پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہوا، فیصل آباد اور سیالکوٹ میں انڈسٹری چلنے سے افرادی قوت نہیں مل رہی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here