گڈ گورننس کے خالی دعوے، اربوں کا ترقیاتی بجٹ موجود، کے پی حکومت صرف سات کروڑ خرچ کر سکی

400

پشاور: خیبرپختونخوا (کے پی) میں گڈگورننس کے تمام دعوؤں کے باوجود کے پی کے محکمہ خزانہ کو جاری مالیاتی سال کے سالانہ ترقیاتی بجٹ کے استعمال میں کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ 

ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے مالیاتی سال 2020-2021 کے لیے محکمہ خزانہ سے متعلق تین ترقیاتی منصوبوں کے لیے 3.435 ارب روپے مختص کیے تھے، مختص کردہ مجموعی رقم میں سے جاری مالیاتی سال کے جولائی تا دسمبر کے دوران 176.298 ملین روپے جاری کیے گئے جبکہ مذکورہ مںصوبے کے لیے جاری کردہ رقم میں سے اب تک محض 71 ملین روپے ہی خرچ کیے جا سکے ہیں۔

نمائندہ پرافٹ اردو کے پاس دستیاب دستاویزات کے مطابق صوبائی حکومت نے ریونیو اکٹھا کرنے اور ریسورس مینجمنٹ پروگرام کے منصوبے کے لیے 3.255 ارب روپے سے زیادہ کی رقم مختص کی تھی، یہ منصوبہ انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایجنسی کی مدد سے مکمل کیا جانا ہے۔ جاری مالیاتی سال کی پہلی ششماہی کے دوران مذکورہ منصوبے کے لیے ابتدائی طور پر 82.298 ملین روپے جاری کیے گئے لیکن اس منصوبے کی تکمیل کے لیے ابھی تک صرف 40.236 ملین روپے ہی خرچ کیے گئے ہیں۔

اس دوران، کے پی حکومت نے محکمہ خزانہ کے لیے صلاحیت میں اضافے اور استحکام کے ایک دوسرے منصوبے کے لیے 167.907 ملین روپے مختص کیے تھے۔ مذکورہ منصوبے کے لیے 47.092 ملین روپے جاری تو کر دیے گئے لیکن ابھی تک مختص کردہ رقم میں سے صرف 18.684 ملین روپے ہی خرچ ہو سکے ہیں۔

اسی طرح، جامع مسجد کی تعمیر کے لیے 47.092 ملین روپے جاری کیے گئے جس میں سے مالیاتی سال 2021 کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران 12.092 ملین روپے ہی خرچ کیے جا سکے ہیں۔

سرکاری ذرائع نے نمائندہ پرافٹ اردو کو بتایا کہ “عالمی ایجنسیوں کی معاونت کی بدولت شروع کیے گئے منصوبوں پر مبینہ طور پر ناتجربہ کار لوگ لگائے گئے ہیں”، جس وجہ سے محکمہ خزانہ کو اس وقت سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت اپنے مقاصد پورے کرنے کے لیے مشکلات کا سامنا ہے۔

کے پی منصوبوں میں زیادہ تر فنڈنگ کا انحصار وفاقی حکومت کے فنڈز پر ہوتا ہے۔ اس وقت وفاقی حکومت کے ذریعے خالص منافع، آئل اینڈ گیس برتری اور دیگر فنڈز کی منتقلی نہ کرنے کی وجہ سے صوبے کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ “فنانس سے متعلق ترقیاتی منصوبوں پر سست پیشرفت سے قطع نظر دیگر محکموں کے کئی اہم منصوبے بھی فنڈز کی عدم دستیابی کی بناء پر تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں”۔

ذرائع نے بتایا کہ اس تاخیر کی وجہ سے ترقیاتی منصوبوں کی لاگت کے ساتھ ساتھ سالانہ صوبائی ترقیاتی پروگرام کی لاگت میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here