ایم ایل وَن پروجیکٹ پر کام مئی کے پہلے ہفتے شروع ہو گا: وزیر ریلوے

چھ سے نو ماہ میں ریلوے کو منافع بخش ادارہ بنا دیں گے، مال گاڑیوں کی آمدن 36 ارب تک بڑھائیں گے، 28 فروری سے ایکسپورٹ کا سارا سامان ریلوے کے ذمہ ہو گا: اعظم سواتی

308

اسلام آباد: وفاقی وزیر ریلوے اعظم خان سواتی نے کہا ہے کہ ریلوے کے مین لائن وَن پروجیکٹ پر کام مئی 2021ء کے پہلے ہفتے شروع ہو جائے گا، چھ سے نو ماہ میں ریلوے کو منافع بخش ادارہ بنا دیں گے۔

گزشتہ روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ریلوے کی قیمتی اراضی کو واگزار کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، ریلوے کے اثاثہ جات کو فروخت نہیں کیا جائے گا۔

اعظم خان سواتی نے کہا کہ گزشتہ ہفتے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان سے ملاقات ہوئی تھی اور وزیراعلیٰ نے صوبے میں ریلوے ارضی واگزار کرانے کے لئے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی جبکہ پنجاب میں ریلوے کی اراضی واگزار کرانے کے لئے آئندہ ہفتے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات ہو گی۔

یہ بھی پڑھیے: 

ریلوے ملازمین کے اوور ٹائم پر پابندی عائد

کاشغر تا مزار شریف، پاکستان ریلوے کو بین الاقوامی سطح تک وسعت دینے کا منصوبہ

ازبکستان کے وفد کی وزیر ریلوے سے ملاقات، کارگو ٹرین سروس پر بات چیت

انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے کے پاس ملک بھر میں ایک لاکھ 67 ہزار ایکٹر اراضی موجود ہے، فریٹ ٹرینوں کی آمدن میں اضافے کے لئے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں اور اگلے چھ ماہ میں ان کی آمدن 9 ارب سے بڑھا کر 36 ارب کی جائے گی، 28 فروری سے ایکسپورٹ کا سارا سامان ریلوے کے ذمہ ہوگا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ریلوے حادثات سے بچنے اور ریل کے سفر کو مزید محفوظ بنانے کے لئے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں، سگنل نظام کو جدید خطوط پر استوار اور غیر ضروری ریلوے کراسنگز کا مسئلہ بھی حل کیا جا رہا ہے۔

اعظم خان سواتی کا کہنا تھا کہ ریلوے سٹیشنز کو معاشی سرگرمیوں کا مرکز بنانے کے لئے متعلقہ اتھارٹیز کو احکامات دئیے جا رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ کراچی سے پشاور تک مین لائن وَن پر سی پیک کے تحت کام مئی 2021ء کے پہلے ہفتے میں شروع ہو جائے گا، ازبکستان کو گوادر کے ذریعے ساری دنیا کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے، اس کے لئے ورلڈ بینک نے ساڑھے ارب ڈالر کی منظوری دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریلوے ملازمین کی فلاح وبہبود بھی اولین ترجیح ہے، ملازمین کو کام کرنے کا بہتر ماحول دینے کے ساتھ ساتھ صحت کی بہترین سہولیات فراہم کریں گےاور ان کے لئے فلیٹس بنانے کے علاوہ اچھے ہسپتال اور ان کے بچوں کے لئے اچھے تعلیمی ادارے بنائیں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here