امریکا، بیروزگاری کی شرح 1960ء کے بعد بلند ترین سطح پر

143

واشنگٹن: دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکا کووڈ-19 سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے اورگزشتہ دس ماہ کے دوران بے روزگاری کی شرح 1960ء کے عشرے کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

گزشتہ ہفتے بے روزگاری الاﺅنس کیلئے درخواست دینے والے امریکیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، لیبر ڈیپارٹمنٹ کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ ہفتے 9 لاکھ 65 ہزار افراد نے بے روزگاری الاﺅنس کیلئے کے لیے درخواستیں دیں، یہ تعداد اس سے پہلے کے ہفتے کی ایک لاکھ 81 ہزار درخواستوں سے کہیں زیادہ رہی۔

ایک حالیہ رپورٹ کے امریکا میں مختلف کمپنیوں نے دسمبر 2020ء کے دوران ایک لاکھ 40 ہزار ملازمتیں ختم کیں۔ مارچ 2020ء کے بعد یہ ملازمتوں میں سب سے بڑی کٹوتی تھی۔

یہ بھی پڑھیے: 

ٹرمپ نے عارضی ورکرز کے امریکا داخلے پر پابندی میں توسیع کر دی

جوبائیڈن نے وبا سے متاثرہ معیشت کیلئے 19 کھرب ڈالر کا امدادی پیکج پیش کر دیا

جوبائیڈن کے 20 جنوری کو امریکا کی صدارت سنبھالنے سے کچھ روز قبل امریکی معیشت کو مزید چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ ہر روز ہزاروں افراد کرونا وائرس سے متاثر ہو رہے ہیں۔

کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کے باعث کاروبار کے اوقات کار میں کمی کی جا رہی ہے تاکہ وائرس کے مزید پھیلا کو روکا جا سکے۔

امریکی حکومت نے بے روزگار افراد کو ہفتہ وار 300 ڈالر کی اضافی رقم دینا شروع کر دی ہے، انہیں اس کے علاوہ ریاستوں کی طرف سے بھی الاﺅنس دیا جاتا ہے۔

دوسری جانب نومنتخب صدر جوبائیڈن نے اقتدار کی منتقلی سے قبل کورونا وائرس سے متاثرہ معیشت کی بحالی اور وبا پر قابو پانے کیلئے 19 کھرب ڈالر کا امدادی پیکج پیش کیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق جوبائیدن کے پیکج میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے 415 ارب ڈالر اور چھوٹے کاروباروں کی معاونت کے لیے 440 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔

یہ امددای پیکج منظوری کے لیے کانگریس کے پاس بھیجا جائے گا اور اگر کانگریس پیکج کو منظور کر لیتی ہے تو اس پیکج کے تحت 10 کھرب ڈالر امریکی خاندانوں کے لیے بھی مختص کیے جائیں گے جس میں امریکی شہریوں کو 1400 ڈالر بھی فراہم کیے جائیں گے جو حال ہی میں منظور ہونے والے کووڈ۔19 بل کے علاوہ ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here