عالمی ٹریول اینڈ ٹورزم انڈسٹری کو مکمل بحالی کیلئے 2023ء تک انتظار کرنا ہو گا، رپورٹ

سفروسیاحت کی صنعت عالمی جی ڈی پی میں 10 فیصد کی حصہ دار، 32 کروڑ سے زائد افراد کا روزگار وابستہ، وبا کی وجہ سے 10 کروڑ کارکنوں کا روزگار براہ راست متاثر ہوا

313

اسلام آباد: کووڈ۔19 کی عالمی وبا سے قبل سفروسیاحت کا شعبہ بین الاقوامی معیشت کا اہم جزو اور بین الاقوامی پیداوار کے 10 فیصد حصہ کا مالک تھا۔

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق 1950ء میں دنیا بھرمیں صرف اڑھائی کروڑ افراد بین الاقوامی سطح پر سفر کرتے تھے تاہم 2019ء کے اختتام تک عالمی سطح پر سفر کرنے والے مسافروں کی تعداد ڈیڑھ ارب سے تجاوز کر گئی۔

رپورٹ کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک کی معیشت کا انحصار سفرو سیاحت کی صنعت پر ہے تاہم کووڈ۔19 کی وباء کے باعث زیادہ تر افراد سفر اور سیاحت سے گریزاں ہیں جس کی وجہ سے متعدد ممالک کی معیشتوں کو مسائل درپیش ہیں۔

فرانس، سپین، امریکا، چین، اٹلی، ترکی، میکسیکو، جرمنی سمیت 20 ممالک ایسے ہیں جہاں ہر سال کروڑوں سیاح سیروتفریح کیلئے جاتے ہیں اور ان ممالک کی معیشت میں ٹورزم انڈسٹری کا اچھا خاصا حصہ ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کووڈ۔19 سے قبل سفروسیاحت کی صنعت عالمی معیشت میں اہم حیثیت کی حامل تھی جو بین الاقوامی جی ڈی پی میں 10 فیصد کی شراکت دار اور 32 کروڑ سے زیادہ افراد کے روزگار کا سبب تھی۔

رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث سفروسیاحت کے شعبہ سے 10 کروڑ کارکنوں کے روزگار براہ راست متاثر ہونے کا خدشہ ہے جبکہ سفروسیاحت کے کئی چھوٹے اور درمیانے درجہ کے کاروباری اداروں میں کام کرنے والے افراد کے روزگار کو بھی سنگین خدشات درپیش ہیں۔

واضح رہے کہ سیاحت کے شعبہ کی 54 فیصد افرادی قوت خواتین پر مشتمل ہے۔ آئی ایم ایف نے کہا کہ سال 2019ء کی سطح تک بحال ہونے کیلئے ٹریول اینڈ ٹورزم انڈسٹری کو 2023ء تک انتظار کرنا ہو گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here