امریکی ایوان نمائندگان کی اکثریت ٹرمپ کے مواخذہ پر متفق

امریکی ایوان نمائندگان میں مواخذہ کے حق میں 205 کے مقابلہ میں 223 ووٹ ڈالے گئے، منظور کردہ قرارداد نائب صدر مائیک پینس سے مطالبہ کیا گیا ہے وہ ٹرمپ کے صدارتی اختیارات ختم کریں اور قائم مقام صدر کے اختیارات سنبھالیں

190

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے مدت صدارت کے اختتام سے محض چند روز قبل بڑی مشکل میں پھنس گئے اور ان کے مواخذہ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

امریکی ایوان نمائندگان میں مواخذہ کے حق میں 205 کے مقابلہ میں 223 ووٹ ڈالے گئے۔ منظور کی جانے والی قرارداد میں امریکی نائب صدر مائیک پینس پر زور دیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی طرف سے کیپٹل ہل پر حملہ کروائے جانے کے بعد ان کے صدارتی اختیارات ختم کر دیئے جائیں۔

ایوان نمائندگان نے نائب صدر مائیک پینس سے باضابطہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ پر حملہ کرنے والے ہجوم کو بھڑکانے کے جرم میں آئین کی 25ویں ترمیم کے تحت صدر ٹرمپ کے اختیارات ختم کریں۔

یہ بھی پڑھیے: 

کیپٹل ہل حملہ کے بعد امریکہ میں اسلحہ کی خریداری میں تیزی

واشنگٹن میں 24 جنوری تک ہنگامی حالت کا نفاذ

ٹرمپ کے حامیوں کا امریکی پارلیمان پر دھاوا، چار ہلاک، واشنگٹن میں کرفیو

کیپٹل ہل حملہ: جے پی مورگن سمیت دیگر کاروباری اداروں کا سیاسی عطیات معطل کرنے کا فیصلہ

امریکی قانون سازوں کی منظور کردہ قراداد میں نائب صدر مائیک پینس سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر قائم مقام صدر کی حیثیت سے اختیارات استعمال کریں اور ٹرمپ کو ان کے عہدے کے فرائض کی انجام دہی سے روک دیں۔

میری لینڈ کے ڈیموکریٹ اور قرارداد پیش کرنے والے نمائندہ جیمی راسکن نے اپنا ووٹ کاسٹ کرنے سے قبل کہا کہ ہم اسے (مائیک پینس) بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ 25ویں ترمیم کے نفاذ کا وقت آ گیا ہے  کیونکہ ٹرمپ نے ہمارے چیمبر پر حملہ کرایا ہے۔ ریاست الینوائے کے ایک ریپبلکن نمائندہ ایڈم کزنجر نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔

گزشتہ نائب صدر مائیک پینس کے سپیکر نینسی پیلوسی کے خط میں مواخذے کے مطالبے کو مسترد کرنے کے بعد بھی ایوان میں کارروائی ہوئی۔ ڈیموکریٹس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ریاستہائے متحدہ امریکہ کی حکومت کے خلاف تشدد کو ہوا دینے کے الزام میں مواخذے کے لئے ووٹ ڈالنے کے لئے بدھ کے روز دوبارہ اجلاس طلب کیا۔

واضح رہے کہ پچھلے ہفتے صدر ٹرمپ کے حامیوں نے امریکی ایوان کے علاقہ کیپٹل ہل پر دھاوا بولا جس میں پولیس آفیسرسمیت پانچ افراد مارے گئے تھے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here