‘آئی ایم ایف پروگرام بحالی سے متعلق مارکیٹس کو ‘اچھی خبر’ جلد ملے گی’

112

اسلام آباد: گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان رضا باقر نے کہا ہے کہ پاکستان کی عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کے ساتھ مالیاتی امداد کے پروگرام کی بحالی کے لیے بات چیت جاری ہے، کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے معاشی بحران کے باوجود معاشی آؤٹ لک سے متعلق پُرامید ہیں۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کو نیکسٹ کانفرنس میں انٹرویو میں کہا کہ “مارکیٹ اور دنیا کے لیے ہمیں اچھی خبر کی امید ہے اور ہم مالیاتی پروگرام کو واپس ٹریک پر لا رہے ہیں”۔

غیر ملکی زرِمبادلہ ذخائر میں کمی اور مشکلات سے دوچار معیشت کے ساتھ پاکستان نے 2019 میں آئی ایم ایف کا تین سال کے لیے بیل آؤٹ پروگرام کے ذریعے چھ ارب ڈالر لیے تھے لیکن ابھی تک پروگرام کی دوسری قسط پر نظرثانی کی منظوری دینا باقی ہے جو گزشتہ برس کے آغاز سے التواء کا شکار ہے۔

گزشتہ برس، آئی ایم ایف مشن اور پاکستانی حکام  کے درمیان معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت پاکستان کو آئی ایف ایف فنڈز کی 45 کروڑ ڈالر کی قسط دی گئی تھی لیکن عالمی ادارے کی جانب سے اب تک اس کی منظوری دینا باقی ہے۔

باقر نے کہا کہ دونوں فریقین کے درمیان حتمی مقصد پر کوئی اختلافِ رائے نہیں تھا، پاکستان کو جی ڈی پی کے تناسب میں اپنے کم ٹیکس کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

2021ء پاکستانی معیشت کیلئے کیسا ہو گا؟ آئی ایم ایف کی امید افزا رپورٹ سامنے آ گئی

کورونا ویکسین خریدنے کیلئے پاکستان عالمی بنک سے 153 ملین ڈالر امداد لے گا

پاکستان اور آئی ایم ایف مشترکہ طور پر عالمی ادارے کی تجویز کردہ معاشی اصلاحات پر عملدرآمد کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں، خاص کر ٹیکس اکٹھا کرنے، معیشت کو مستحکم کرنے اور بجٹ خسارے کو کم سے کم کرنے کے لیے اصلاحات لائی جارہی ہیں۔

اگرچہ بیل آؤٹ پروگرام تا حال زیرِالتواء ہے، کورونا وائرس وباء کی روک تھام کے اقدامات اور اسکے معاشی اثرات کو کم سے کم کرنے کے لیے عارضی اخراجات میں اضافہ اور طے کردہ ہدف کے فنڈز استعمال کرنے کے لیے پاکستان کو آئی ایم ایف سے 1.4 ارب ڈالر کی ہنگامی امداد دی گئی تھی۔

پاکستانی حکام ملک کی مالیاتی پوزیشن کو مضبوط کرنے اور عالمی دنیا کا پاکستانی معیشت پر اعتماد بڑھانے کے لیے آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکیج کے حق میں ہیں۔

کورونا وائرس اور ویکسین:

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ پاکستان کو کورونا وائرس کی دوسری لہر کا چیلنج درپیش ہے لیکن پھر بھی وہ ملک کے اکانومک آؤٹ لک سے متعلق پہلے سے زیادہ پُرامید ہیں۔

انہوں نے کہا کہ “ہم آنے والے خطرات سے متعلق نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ ہم ویکیسن کے بغیر پہلے ہی وباء کے وسط میں ہیں اور ایک بار ویکسین آجائے تو صرف اس سے ہی صورتحال بہتر ہو جائے گی”۔

جون 2020 تک ختم ہونے والے گزشتہ مالیاتی سال میں وباء کے باعث معاشی سرگرمیاں متاثر ہونے کی وجہ سے پاکستانی معیشت میں 0.4 فیصد کمی آئی تھی۔

رضا باقر نے مزید کہا کہ معیشت بحالی کی راہ پر ہے اور  جب تک ویکسین دستیاب نہیں ہو جاتی بینک معاشی بحالی میں معاونت کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ “رواں مالیاتی سال میں پاکستان کا مقصد ترقی کی شرح نمو میں ڈیڑھ سے ڈھائی فیصد اضافہ کرنا ہے”۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here