سٹیٹ بینک کا غیر قانونی آپریٹرز سے خریدو فروخت، حوالہ ہنڈی سے رقوم کی منتقلی کے خلاف سخت انتباہ

156

کراچی: سٹیٹ بینک آف پاکستان نے غیرقانونی آپریٹرز کے ذریعے غیرملکی کرنسی کی خریدوفروخت اور حوالہ یا ہنڈی کے ذریعے کرنسی منتقل کرنے کے خلاف شہریوں کو سخت انتباہ جاری کیا ہے۔

مرکزی بینک نے شہریوں کو کہا ہے کہ وہ غیرقانونی فارن ایکسچینج آپریٹرز کے ساتھ خریدوفروخت کر کے لاعلمی منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی معاونت کا حصہ بن سکتے ہیں۔

بینک دولت نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی معاونت اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ (اے ایم ایل) 2010ء، اینٹی ٹیررازم ایکٹ (اے ٹی اے) 1997ء کے تحت جرم ہے جس کی مذکورہ قوانین کے تحت سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔

’’آپ کے بہترین مفاد میں ہے کہ غیرملکی کرنسی کی خریدوفروخت اور ترسیلاتِ زر کی ٹرانزیکشن صرف سٹیٹ بینک کے مجاز بینکوں اور ایکسچینج کمپنیوں کے ساتھ ہی کریں۔‘‘

یہ بھی پڑھیے:

انسداد منی لانڈرنگ کیلئے فارن کرنسی اکائونٹ سے متعلق قواعدوضوابط جاری

گاڑیوں کے 20 درآمد کنندگان منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کا انکشاف

غیرملکی سرمایہ کاروں کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں دور کریں گے: وزیراعظم

سٹیٹ بینک نے شہریوں کو مزید کہا کہ ٹرانزیکشنز کی سسٹم جنریٹڈ سرکاری رسیدیں ہمیشہ اپنے ریکارڈ میں رکھیں۔ “اگر کوئی شخص غیرملکی کرنسی کی کسی بھی قسم کی غیرقانونی خریدوفروخت یا حوالہ، ہنڈی آپریٹرز کی سرگرمی دیکھے تو ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ فوراَ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو رپورٹ کرے”۔

پاکستان میں غیرملکی زرِمبادلہ کا کاروبار فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ (فیرا) 1947ء کے تحت چلایا جاتا ہے۔ سٹیٹ بینک نے بینکوں اور ایکسچینج کمپنیوں کو بھی غیرملکی زرِمبادلہ کا کاروبار چلانے کے لیے سرٹیفکیٹ جاری کیے ہیں۔ کوئی شخص (انفرادی یا کمپنی) سٹیٹ بینک کے مجاز اداروں کے علاوہ ٹرانزیکشنز کرے تو فیرا ایکٹ اور اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت یہ ٹرانزیکشنز غیرقانونی ہوں گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here