ایل ڈی اے نے اراضی کے کمرشل استعمال کیلئے نئے قوانین متعارف کروا دئیے

لینڈ یوز رولز 2020 کے ذریعے اراضی کی کمرشلائزیشن قسطوں کا دورانیہ دو سال سے بڑھا کر تین سال ہوگا، ای خدمت سینٹر کی آفیشل ویب سائٹ کی مدد سے 30 روز کے اندر بلڈنگ پلانز کی منظوری، ایل ڈی اے ون ونڈو سیل میں متلعقہ محکموں کے سہولت سینٹرز کاقیام، پلاٹس کی خریدوفروخت کے لیے بائیومیٹرک تصدیق کی جائے گی

168

لاہور: لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) نے لاہور ڈویژن کے چار اضلاع میں صنعت و تجارت کے فروغ کے لیے نئے کاروباری وینچرز کی جانب سے اراضی خریدنے اور استعمال کرنے کے حوالے سے قوانین متعارف کرا دیے۔

ترجمان ایل ڈی اے کے مطابق حالیہ پالیسی اور گائیڈلائنز لینڈ یوز رولز 2020ء کی روشنی میں جاری کی گئی ہیں، ان قوانین  کے تحت نئے کاروبار شروع کرنے کیلئے زمین کے استعمال میں تبدیلی کی اجازت دی گئی ہے تاکہ نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہو سکیں۔

ترجمان نے کہا کہ نئے قواعد کو کاروبار دوست بنایا گیا ہے، کمرشلائزیشن فیس کی مجموعی ادائیگی پر پانچ فیصد رعایت دی گئی ہے، کمرشلائزیشن فیس جو پہلے دو سال میں ادا کرنا ہوتی تھی، اب تین سال میں اقساط کی صورت بھی ادا کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فلاحی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے این جی اوز اور خیراتی اداروں کیلئے کمرشلائزیشن فیس میں کمی کی گئی ہے، ‘ایریا ڈویلپمنٹ پروجیکٹ’ کے نام سے 24 سے 200 کینال پر مشتمل کمرشل زون قائم کرنے کا نیا تصور متعارف کرایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

ایل ڈی اے کی چار ہزار رہائشی یونٹس تعمیر کرنے کی منظوری

چینی کمپنی کا پنجاب میں ٹائل سازی کی صنعت لگانے کیلئے 50 ایکڑ زمین دینے کا مطالبہ

واضح رہے کہ ایل ڈی اے کے کاروبار دوست اقدامات کی وجہ سے پاکستان کی کاروباری آسانی کے حوالے سے رینکنگ میں 54 پوائنٹس بہتری آئی ہے، جس سے لاہور میں کاروباری آسانی کے حوالے سے رینکنگ 58.16 پوائنٹس سے بڑھ کر 70.4 پوائنٹس ہو گئی ہے۔

ایل ڈی اے وَن ونڈو سیل کی مدد سے ای سروس سینٹر کے تحت مختلف اقسام کی درخواستوں پر تیزی سے عملدرآمد کے لیے واسا، ٹیپا، ٹاؤن پلاننگ اور میٹروپولیٹن پلاننگ سمیت متعلقہ محکموں کے دفاتر قائم کیے جا چکے ہیں۔

اسی طرح اب دفاتر کے نقشہ جات کے لیے شہریوں کو بار بار ایل ڈی اے کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے بلکہ 30 دن کے اندر نجی آرکیٹیکٹ کی جانب سے درخواستوں پر عملدرآمد کر کے بلڈنگ پلانز کے سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیں گے۔

اس مقصد کے لیے شہریوں کو ای خدمت سینٹر کی آفیشل ویب سائٹ کی سہولت فراہم کی گئی ہے جہاں شہری بلڈنگ پلانز کی منظوری کے لیے ایل ڈی اے آفس آنے کی بجائے اپنی درخواست ویب سائٹ کے ذریعے جمع کرائیں گے جو 30 دن کے اندر منظور کر لی جائے گی۔

مزید برآں ایل ڈی اے نے عمارت کے نقشے جمع کرانے والے رہائشی مکانات اور کم منزلوں کی کمرشل عمارتوں کی تعمیر کی بھی اجازت دے دی ہے۔ اس کے تحت رہائشی، کمرشل، صنعتی، گوداموں کے نقشہ جات 30 روز کے اندر منظور کر لیے جائیں گے۔ کمرشل، انڈسٹریل اور دیگر زمین کے استعمال کے نقشہ جات کی تبدیلی کی اجازت 45 روز کے اندر دی جائے گی۔

واسا کی جانب سے پانی کے کنکشن کے دورانیے کو بھی کم کر دیا گیا ہے، واٹر کنکشن کی درخواستیں بھی جلد آن لائن وصول کی جائیں گی۔

ایل ڈی اے اور نادرا کے درمیان معاہدے کے تحت اتھارٹی کو 2020ء کے دوران نادرا کے ڈیٹا بیس تک رسائی کی اجازت دی جائے گی، اس حوالے سے ایل ڈی اے وَن ونڈو سیل میں نادرا کا ایک کاؤنٹر بھی قائم کیا جائے گا۔

اراضی کے انتقال میں فراڈ اور جعلی کاغذات کے مسائل ختم کرنے کے پیش نظر پلاٹس کی خریدو فروخت کی درخواستوں پر عملدرآمد سے قبل اراضی کے فروخت کنندہ اور خرید کنندہ کی بائیومیٹرک تصدیق کی جا سکے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here