پنشن کے سالانہ اخراجات شعبہ تعلیم اور صحت کے بجٹ سے بھی زیادہ

سال 2020ء میں ٹیکس آمدن سے پنشن ادائیگیوں کے تناسب میں 18.7 فیصد، جی ڈی پی کے تناسب سے 2.2 فیصد اضافہ، ترقیاتی بجٹ کے نصف کے برابر

553

اسلام آباد: پاکستان میں ٹیکس محصولات سے پنشن کی ادائیگی کے تناسب میں مالی سال 2020ء کے دوران 18.7 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے، یہ شرح ایک عشرہ قبل کے مقابلہ میں دوگنا زیادہ ہے، جی ڈی پی کے تناسب سے پنشن کی مد میں 2.2 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر پنشن اخراجات میں اضافہ کا تناسب اسی رفتار سے جاری رہا تو اس سے دیگر شعبوں کیلئے اخراجات کی تخصیص میں مسائل پیدا ہوں گے۔

مالی سال 2020ء میں پنشن پر وفاق اور صوبوں کے اٹھنے والے اخراجات صحت اور تعلیم کے مختص کردہ بجٹ سے زیادہ اور ترقیاتی اخراجات کا نصف ہیں۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک جیسے مالیاتی ادارے بھی پنشن پر اٹھنے والے اخراجات و مصارف کو پاکستان کے قرضوں کی پائیداریت کے حوالہ سے اہم خدشات قرار دے رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ پُرتشویش امر یہ ہے کہ پنشن لینے والے ملازمین کی تعداد اور اُن پر اٹھنے والے مصارف بڑھ رہے ہیں، اگر محصولات کی موجودہ شرح اسی طرح رہی اور پنشن سے متعلق مصارف بھی اسی رفتار سے بڑھتے رہے تو اس سے قرضوں کی پائیداریت کے حوالہ سے معیشت کو مزید مسائل لاحق ہو سکتے ہیں۔

عالمی بینک کے اندازوں کے مطابق 2023ء اور 2028ء کے درمیان سندھ اور پنجاب میں سول ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن کی مد میں مصارف کا حجم تنخواہوں سے بڑھ جائے گا۔

اپنی رپورٹ میں سٹیٹ بینک نے بڑھتے ہوئے پنشن اخراجات پر قابو پانے کیلئے اصلاحات کی ضمن میں کئی تجاویز بھی دی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اولڈ ایج کنٹری بیوٹری پنشن، صحت و سماجی تحفظ انشورنس کے پروگراموں میں آبادی کی شمولیت 5.9 فیصد ہے جو دیگر ترقی پذیر ممالک کے مقابلہ میں بہت کم ہے، ترقی پذیرممالک میں یہ اوسط 20.3 فیصد کی سطح پر ہے۔

اسی طرح 65 سال اور اس سے زیادہ عمر کی انحصار کرنے والی آبادی کا تناسب ورکنگ ایج والے شہریوں کے مقابلہ میں 8.5 فیصد ہے جو 2040ء میں 11.40 فیصد ہو جائے گی۔

رپورٹ میں سرکاری پنشن میں اصلاحات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان میں پنشن پر اٹھنے والے مصارف پہلے سے سخت مالیاتی محصولات پر مزید بوجھ ڈالنے کا باعث بن رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں وفاق اور صوبوں کے پنشن کا اوسط حجم پنشن کے مجموعی حجم کا 63.2 فیصد اور ملٹری پنشن کا حجم 36.8 فیصد رہا ہے۔

سٹیٹ بینک کے مطابق پنشن کی موجودہ ساخت میں کم سے کم پنشن کی حد کا تعین کیا گیا ہے جس پر گزشتہ 10 برسوں میں کئی بار نظرثانی کی گئی تاہم اس میں کم سے کم پنشن مراعات لینے والوں پر سیلنگ لاگو نہیں ہے جس کی وجہ سے گراس ری پلیسمنٹ کی شرح میں 100 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ری پلیسمنٹ کی شرح کو معقول بنانے کیلئے حکومت امریکا، کینیڈا، انڈیا، ہانگ کانگ، جاپان، جرمنی اور اٹلی کی طرح پنشن ایبل کمائی پر سیلنگ کا اطلاق کر سکتی ہے۔ اسی طرح پنشن لینے والوں کے زیر کفالت افراد کی تعداد میں کمی جیسے اقدامات کی بھی ضرورت ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here