پاور لومز ایسوسی ایشن کی برآمدی آرڈرز پورے کرنے کیلئے بجلی کی لوڈ مینجمنٹ سے استثنی کی اپیل

265
In this photograph taken on November 16, 2016, Pakistani workers operate a machine at a textile factory in Faisalabad. As Pakistan slowly emerges from a long-term power crisis, its once booming textile sector is scrambling to find its feet -- but high energy costs and a decade lost to competitors mean recovery is far from assured. Energy production was severely depressed for more than 10 years due to chronic under-investment, inefficiencies in the power network and an inability to collect sufficient revenue to cover costs. / AFP PHOTO / KHALIL UR-REHMAN / TO GO WITH AFP STORY: Pakistan-Energy-Industry-Textiles, FOCUS by Caroline Nelly PERROT

فیصل آباد: آل پاکستان کاٹن پاور لومز اونرز ایسوسی ایشن نے اربوں روپے کے برآمدی آرڈرز پورے کرنے کیلئے ٹیکسٹائل انڈسٹری و متصل صنعتوں کو بجلی کی لوڈ مینجمنٹ سے مکمل مستثنی قرار دینے کی اپیل کی ہے۔

ایسوسی ایشن کے چیئرمین وحید خالق رامے نے گزشتہ روز میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ کورونا کی عالمی وبا کے دوران وزیراعظم عمران کی بہترین حکمت عملی اور حکومت کے دانشمندانہ اقدامات کے باعث پاکستانی صنعت کا پہیہ مکمل صلاحیت کے ساتھ چل رہا ہے اور اسے اربوں روپے کے برآمدی آرڈرز بھی مل رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: 

ٹیکسٹائل برآمدات میں ریکارڈ اضافہ، ایکسپورٹ آرڈرز پورے کرنا مشکل

’1990ء کے بعد پہلی بار فیصل آباد کی ٹیکسٹائل انڈسٹری مکمل بحال‘

فیصل آباد میں صنعتی سرگرمیاں تیز، ٹیکسٹائل انڈسٹری میں اڑھائی لاکھ ملازمین کی کمی

مگر انہوں نے کہا کہ عین اس موقع پر فیسکو نے روزانہ کی بنیاد پر گرڈ سٹیشنز کی مرمت اور برقی لائنوں کی مرمت و تبدیلی اور دیگر حیلے بہانوں کی آڑ میں کئی کئی گھنٹوں کی بجلی کی بندش کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس کے صنعتی شعبہ پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور بر آمدی آرڈرز کی بروقت تکمیل میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شدید سردی کے باعث جہاں دیگر اداروں اور گھریلو سطح پر بجلی کا استعمال نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے ان حالات میں ہونا تو یہ چاہیے کہ صنعتی شعبہ کو ہفتہ کے ساتوں روز مسلسل 24 گھنٹے بجلی کی سپلائی جاری رکھی جائے مگر ایسا نہیں ہو رہا۔

پاور لومز ایسوسی ایشن نے ارباب اختیار سے اپیل کی کہ انڈسٹریل سیکٹر کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور لوڈ مینجمنٹ سے فوری مستثنی قرار دیا جائے تاکہ انڈسٹری فل کپیسٹی پر چل کر بروقت تمام بر آمدی آرڈرز پورے اور ملک کیلئے زیادہ سے زیادہ قیمتی زر مبادلہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے۔

دوسری جانب فیسکو کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بجلی کی طلب و رسد پوری ہے تاہم آئندہ موسم گرما میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی کیلئے مینٹی ننس کا کام جاری ہے جس کے باعث قبل از وقت شیڈول کا اعلان کرکے کچھ وقت کیلئے بجلی بند کی جا رہی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here