سعودی عرب کا تیل کی پیداور میں رضاکارانہ کمی کا اعلان

175

ریاض: سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے فروری اور مارچ کے دوران جذبہ خیر سگالی کے طور تیل کی یومیہ پیداوار میں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی طرف سے تیل کی عالمی منڈیوں کے استحکام کے لیے نیک نیتی کے اظہار کے طور پر کیا گیا ہے۔

سعودی وزیر توانائی نے اوپیک پلس اجلاس کو بتایا کہ سعودی عرب فروری اور مارچ 2021ء میں رضا کارانہ طور پر یومیہ ایک ملین بیرل کی کمی کرے گا، یہ کمی اس اتفاق رائے کے علاوہ ہے جس پر پہلے بات چیت ہو چکی ہے۔

ادھر اوپیک پلس ملکوں کے اجلاس میں روس اور قازقستان کو خام تیل کی پیداوار میں آئندہ دو ماہ ( فروری اور مارچ) کے دوران معمولی اضافے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

روس کی تاس نیوز کے مطابق اوپیک پلس ملکوں کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت روس فروری کے دوران تیل کی پیداوار میں 65 ہزار بیرل یومیہ جبکہ مارچ میں مزید 65 ہزار بیرل یومیہ کا اضافہ کر سکے گا جس سے اس کی پیداوار دونوں مہینوں کے دوران بڑھ کر بالترتیب 91 لاکھ 84 ہزار اور 92 لاکھ 49 ہزار بیرل یومیہ رہے گی۔

قازقستان اپنی پیداوار میں فروری کے دوران 10 ہزار جبکہ مارچ میں مزید 10 ہزار بیرل یومیہ اضافہ کرسکے گا جس سے اس کی پیدوار دونوں مہینوں کے دوران بڑھ کر بالترتیب 14 لاکھ 27 ہزار اور 14 لاکھ 37 ہزار بیرل یومیہ رہے گی۔

گروپ میں شامل دوسرے تمام ملکوں کی پیداوار جنوری کی سطح پر جاری رہے گی۔ اوپیک پلس گروپ نے طے کیا ہے کہ تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے پٹرولیم کا آئندہ اجلاس تین فروری 2021ء کو ہو گا جبکہ وسیع البنیاد اجلاس 4 مارچ 2021ء کو منعقد کیا جائے گا۔

اوپیک پلس میں شامل ممالک نے کوٹے کی پابندی نہ کرنے والے ملکوں سے کہا ہے کہ وہ 15 جنوری تک تلافی سکیمیں پیش کریں۔

دوسری جانب اوپیک پلس کے اہم ترین رکن روس نے کہا ہے کہ رواں سال عالمی منڈی میں تیل کے نرخوں کے اتار چڑھائو میں کمی اور طلب میں تین سے پانچ ملین بیرل یومیہ اضافے کا امکان ہے، تاہم یہ کورونا وائرس سے قبل کی سطح پر نہیں پہنچ سکے گا۔

روس کے نائب وزیراعظم الیگزینڈر نووک نے ایک انٹرویو میں کہا کہ حالیہ مہینوں کے دوران آئل مارکیٹ کا اتار چڑھائو کم ہوا ہے، بالخصوص کورونا ویکسین کی رجسٹریشن کے بعد تیل کی طلب اور قیمتوں میں بہتری آئی ہے تاہم کورونا وبا کے حوالے سے عالمی صورت حال اب بھی واضح نہیں اور اس کی بہتری میں کچھ وقت درکار ہو گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here