ایف بی آر ٹیکس دہندگان کے پروفائل کے فیصلے پر نظرثانی کرے، اسلام آباد چیمبر

138

اسلام آباد: اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار یاسر الیاس خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں کارپوریٹ سمیت تقریباََ 23 لاکھ ٹیکس ریٹرن جمع کرائے جاتے ہیں اور کم ریٹرن جمع کرائے جانے کی ایک اہم وجہ ٹیکس دہندگان کے بارے میں ایف بی آر کے سخت قوانین ہیں جن کی وجہ سے عام شہری یہ سمجھتا ہے کہ ایک بار ٹیکس ریٹرن جمع کرانے والے زندگی بھر کیلئے مشکل میں پھنس جاتے ہیں۔

بدھ کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ مشکل ٹیکس قوانین کو آسان بنانے کی بجائے انکم ٹیکس آرڈیننس میں ترمیم کر کے فنانس ایکٹ 2020ء کے تحت ٹیکس دہندگان کیلئے اپنے پروفائل جمع کرانا بھی ضروری قرار دیا گیا ہے حالانکہ ٹیکس دہندگان کے بارے میں ہر قسم کا ذاتی ڈیٹا ٹیکس ریٹرن میں فراہم کر دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پروفائل جمع نہ کرانے والوں کو ایکٹو ٹیکس دہندگان کی لسٹ سے خارج کرنے کے ساتھ ساتھ جرمانے اور دیگر سزائوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے جس سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔

یہ بھی پڑھیے

وزارت صحت کی سگریٹ اور سافٹ ڈرنکس پر ہیلتھ ٹیکس کے نفاذ کی تجویز

ایف بی آر، پہلی ششماہی میں ہدف کا 99.7 فیصد ٹیکس جمع

گوشوارے داخل کرنے والوں کی تعداد 23 لاکھ سے زائد، 43.6 ارب روپے ٹیکس جمع

صدر اسلام آباد چیمبر نے وفاقی وزیر خزانہ حفیظ شیخ اور چیئرمین ایف بی آر محمد جاوید غنی سے اپیل کی کہ وہ ذاتی دلچسپی لے کر ٹیکس دہندگان کے پروفائل جمع کرانے کے فیصلہ پر نظرثانی کرائیں۔

سردار یاسر الیاس خان نے مزید کہا کہ پراپرٹی کی خریدوفروخت کرنے والوں پر بھی اینٹی منی لانڈرنگ کے قوانین لاگو کر دیئے گئے ہیں جس سے ناصرف تاجر برادری مزید مشکلات کا شکار ہو گی بلکہ وزیراعظم کی طرف سے اعلان کردہ کنسٹریکشن پیکج سے استفادہ حاصل کرنا دشوار ہو جائے گا اور یہ پیکیج اپنی اہمیت کھو دے گا جس سے تجارتی سرگرمیاں ماند پڑ جائیں گی۔

آئی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ پاکستان بھر میں بجلی کے تقریباََ 80 لاکھ کمرشل میٹرز ہیں جبکہ تقریباََ 30 لاکھ سے زائد انڈسٹریل یونٹس کام کر رہے ہیں لیکن صرف 23 لاکھ ٹوٹل ٹیکس ریٹرن جمع ہوتے ہیں جو حکومت کیلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ کمرشل میٹرز کا ریکارڈ حکومت کے پاس موجود ہے اور سب کو ریگولرائز کیا جا سکتا ہے لیکن لگتا ہے کہ ایف بی آر کی پالیسی موجودہ ٹیکس دہندگان کو ہی نچوڑنے پر مرکوز ہے جو ملک میں مہنگائی کا سبب بن سکتی ہے۔

انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ ٹیکس قوانین کو آسان بنانے پر توجہ دے تاکہ عوام ٹیکس نیٹ میں آنے میں ترغیب محسوس کریں کیونکہ موجودہ ٹیکس قوانین ٹیکس نیٹ کو فروغ دینے کی بجائے لوگوں کو ٹیکس نیٹ سے باہر رہنے پر مجبور کر رہے ہیں جو ملک کی معیشت کیلئے بہتر نہیں ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here