امریکی کانگریس میں پاکستانی خواتین کیلئے ملالہ سکالرشپ ایکٹ منظور

243

نیویارک: امریکی کانگریس نے میرٹ کی بنیاد پر اور ضرورت مند پاکستانی خواتین کی مدد کے پروگرام کے تحت سکالرشپس کی تعداد میں اضافے کے لیے پاکستانی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کے نام سے منسوب سکالرشپ ایکٹ منظور کر لیا۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی نے کانگریس کی ویب سائٹ پر دی گئی معلومات کے حوالے سے بتایا کہ امریکی ایوان نمائندگان نے ملالہ یوسف زئی سکالر شپ ایکٹ مارچ 2020ء میں منظور کیا تھا اور یکم جنوری کو امریکی سینیٹ نے اس بل کو وائس ووٹ سے منظور کیا جس کے بعد اب اسے قانون میں تبدیل کرنے اور منظوری کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھیج دیا گیا ہے۔

اس بل کے مطابق امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) پاکستانی خواتین کے لیے ہائر ایجوکیشن سکالرشپ پروگرام کے تحت اہلیت اور میرٹ کی بنیاد پر 2022ء تک تقریبا 50 فیصد سکالرشپس ایوارڈ دے گی۔

یو ایس ایڈ کو پروگرام کے تحت سکالرشپس کی تعداد سمیت صنف، نظم و ضبط اور ڈگری کی بنیاد پر ہونے والی جزئیات کے حوالے سے کانگریس کو سالانہ بریفنگ دینا ہو گی۔

اس بل میں پروگرام کی ضروریات پوری نہ ہونے پر غیر ارادی طور پر پروگرام سے باہر نکال دیئے جانے اور انتقامی کارروائیوں کے باعث سکول چھوڑنے والے امیدوار بھی شامل ہوں گے۔

یو ایس ایڈ 2010ء سے پاکستان میں خواتین کو ہائر ایجوکیشن کے لیے چھ ہزار سے زائد سکالر شپس دے چکا ہے اور اس بل کی منظوری سے اس پروگرام کو وسعت ملی ہے۔

ملالہ یوسف زئی سکالر شپ ایکٹ امریکہ کے آئین کا ایک سکالرشپ قانون ہے جسے 19 نومبر 2014ء میں متعارف کرایا گیا تھا جس کو اب امریکی کانگرس بھی منظور کر لیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here