ڈرون ٹیکنالوجی کی عالمی مارکیٹ میں چین کا حصہ 80 فیصد

عالمی مارکیٹ کیلئے 70 فیصد ڈرون صرف ایک چینی کمپنی تیار کرتی ہے، 2025ء تک عالمی ڈرون انڈسٹری کا حجم 42.8 ارب ڈالر ہو گا، رپورٹ

313

بیجنگ: حالیہ برسوں میں ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے اور دفاعی مقاصد سے لے کر تصویر کشی اور زراعت تک میں اب ڈرون متعارف کرائے جا چکے ہیں۔

لیکن چین میں فوجی ڈرونز کے علاوہ سویلین ڈرون انڈسٹری نے بھی تیزی سے ترقی کی ہے اور عالمی مارکیٹ میں اس کا حصہ تقریبا 80 فیصد ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

زراعت میں ڈرون ٹیکنالوجی کے فروغ کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط

پاکستان نے سیلیکس گلیلیو ٹیکنالوجی سے لیس ڈرون طیارہ بنا لیا

ڈرون ٹیکنالوجی کے محفوظ استعمال کیلئے ریگولیٹری اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ

خاص طور پر  چین کی ڈی جے آئی انوویشن ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ کے تیار کردہ ڈرون عالمی سطح پر صارفین کے ڈرون مارکیٹ کا 70 فیصد بنتے ہیں جو عالمی سویلین ڈرون تیار کرنے والوں کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔

جرمن یو اے وی ریسرچ کمپنی کی جاری کردہ مارکیٹ رپورٹ 25-2020ء کے مطابق2019ء میں عالمی یو اے وی یعنی ڈرون مارکیٹ کی کل مالیت تقریبا 18 ارب ڈالر رہی۔

توقع ہے کہ 2025ء تک عالمی یو اے وی مارکیٹ کی کل مالیت دوگنا یعنی 42.8 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

چینی اکیڈمی آف کامرس کے بین الاقوامی مارکیٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر بائی منگ کا خیال ہے کہ چین میں ڈرون انڈسٹری ایک نئی معاشی نمو کی صنعت بن سکتی ہے ۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here