اندرون سندھ میں انٹرنیٹ فراہمی کیلئے پی ٹی سی ایل کے تین ارب کے معاہدے

162

کراچی : وفاقی وزرات انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کے ادارے یونیورسل سروس فنڈ (یو ایس ایف) اور پاکستان ٹیلی کام کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ای) کے مابین سندھ کے مختلف اضلاع میں فائبر آپٹک کیبل بچھانے کے دو الگ الگ معاہدوں پر دستخط کر دیئے گئے۔

دونوں منصوبوں پر مجموعی لاگت تین ارب روپے سے زائد آئے گی جس کی تکمیل پر سکھر، خیرپور، کشمور اضلاع کے مختلف علاقوں کی 140 یونین کونسلوں کے 47 لاکھ سے زائد افراد کو تیز ترین انٹرنیٹ کی سہولیات میسر آ سکیں گی۔

معاہدے کی تقریب گزشتہ روز گورنر ہاﺅس کراچی میں منعقد ہوئی، تقریب کے مہمان خصوصی گورنر سندھ عمران اسماعیل تھے۔ تقریب میں وفاقی وزیر آئی ٹی سید امین الحق، سیکریٹری آئی ٹی شعیب احمد صدیقی، ارکان قومی و صوبائی اسمبلی سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی۔

معاہدوں پر دستخط وزارت آئی ٹی کے ادارے یونیورسل سروس فنڈ کے سی ای او حارث محمود چوہدری اور پی ٹی سی ایل کے قائم مقام سی ای او ندیم خان نے کئے۔

دونوں منصوبے اس طرح ڈیزائن کیے گئے ہیں کہ ان کی تکمیل سے مذکورہ اضلاع میں پانچ مربع کلومیٹر کی حدود میں آنے والے 372 تعلیمی ادارے، 170 صحت کے مراکز، 217 سرکاری دفاتر اور 131 بینکوں کو تیز ترین انٹرنیٹ سے منسلک کیا جا سکے گا۔

یہ بھی پڑھیے: 

پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹس میں 44 فیصد اضافہ

’500 سے زائد جاپانی آئی ٹی کمپنیاں پاکستان آنا چاہتی ہیں‘

ڈرون ٹیکنالوجی کے محفوظ استعمال کیلئے ریگولیٹری اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ یہ نہایت خوش آئند اور پرمسرت موقع ہے کہ سندھ کے اضلاع کشمور، سکھر اور خیر پور کے لاکھوں افراد کیلئے آپٹک فائبر کیبل کے منصوبوں کے معاہدے طے پا رہے ہیں، ایک وقت پر ملک میں ٹیکنالوجی کے نام پر مذاق اور اقتصادیات کے ساتھ کھیل کھیلا جارہا تھا جس نے ترقی کے عمل کو متاثر ہی نہیں بلکہ اسے ہم سے بہت دور کیے رکھا لیکن خمیازہ کروڑوں لوگوں کو بھگتنا پڑا۔

عمران اسماعیل کے مطابق اب وقت تبدیل ہو چکا ہے، موجودہ حکومت کو عوام کے مسائل اور جدید دنیا کے تقاضوں سے مکمل آگاہی ہے، کچھ وقت ضرور لگے گا کیونکہ سب کچھ نئے سرے سے بنانا پڑ رہا ہے لیکن جب اس کے نتائج سامنے آنا شروع ہوں گے تو اس کے فوائد صرف اور صرف عوام کیلئے ہی ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں ڈیجیٹل پاکستان کا تصور بھی ترقی کے عمل کو تیزی سے آگے بڑھانے اور خود کو زمانے کی جدت سے ہم آہنگ کرنے کیلئے ہے۔

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے اس موقع پر وفاقی وزیر سید امین الحق کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں ناصرف وزارت آئی ٹی بلکہ ان کے تمام ماتحت اداروں خصوصا یونیورسل سروس فنڈ کی کارکردگی بے مثال ہے جو براڈ بینڈ سروسز اور آپٹیکل فائبر کے ذریعے ملک بھر میں ایک ڈیجیٹل انقلاب لانے میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

اپنے استقبالیہ خطاب میں وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی سید امین الحق نے کہا کہ جب متحدہ قومی موومنٹ کے حصے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت آئی تو ہم یہ بخوبی جانتے تھے کہ ماضی میں اس وزارت کو ہمیشہ ایک بوجھ اور ناکارہ شعبہ سمجھ کرفراموش کیا جاتا رہا، یہی وجہ تھی کہ ٹیکنالوجی کے اس تیزرفتار دور میں پاکستان دیگر ممالک سے کئی دہائیوں کی دوری پر رہا بلکہ یہ کہا جائے کہ اس دوڑ میں شریک ہی نہیں ہوا تھا۔

سید امین الحق نے کہا کہ 2008 سے 2018 کے 10 برسوں میں اس وزارت کو مکمل مفلوج رکھا گیا، شاید اس کی بنیادی وجہ یہ رہی ہو کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایک ویژن کی متقاضی ہے، جب تک آپ کے پاس ویژن نہ ہو آئی ٹی کی اہمیت و افادیت کا ادراک ہو ہی نہیں سکتا، ایسے میں ہمارے لیے یہ ایک بڑا چیلنج تھا جسے پورا کرنے کیلئے ضروری تھا کہ ملک کے وزیراعظم کو بھی اس بات کا ادراک ہو کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کیا ہے اور یہ کس قدر اہمیت کی حامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے ڈیجیٹل پاکستان کا وژن دے کر ابتدا میں ہی یہ ثابت کر دیا کہ انہیں نہ صرف انفارمیشن ٹیکنالوجی کی اہمیت و افادیت کا بھرپور احساس ہے بلکہ وہ اس خواب کی تعبیر کیلئے ہر ممکن حد تک بھی جانے کو تیار ہیں، ایسے میں جب آپ کو اوپر کی سطح سے سپورٹ حاصل ہو تو کام میں مزہ بھی آتا ہے اور بڑے سے بڑے چیلنجز بھی لیے جا سکتے ہیں۔

وفاقی وزیر آئی ٹی نے کہا کہ اسی عزم کے ساتھ ہم نے اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے وزارت کا چارج سنبھالا، یقیناََ ابتداء میں اس شعبے میں ہونے والی تبدیلیوں کا اندازہ عام لوگوں کو اس لیے نہیں ہو سکا کہ انہوں نے یہ کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی بھی ملک کی معیشت میں کوئی ہلچل مچا سکتی ہے لیکن ہم نے یہ کر دکھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے برآمدی ترسیلات ریکارڈ سطح تک پہنچ چکے ہیں، ملک بھر میں آئی ٹی پارکس بن رہے ہیں، ڈیٹا سینٹرز، کلائوڈ پالیسی، سائبر سیکیورٹی پر کام ہو رہا ہے۔ پاکستان میں اسمارٹ فون مینوفیکچرنگ کے مراحل طے ہوچکے ہیں، اسی طرح یونیورسل سروس فنڈ کے کمالات کے تحت ملک کے دور دراز علاقوں میں براڈبینڈ سروسز کی فراہمی سے لے کر فائبر آپٹکل کیبلز بچھانے کے درجنوں پراجیکٹس کی منظوری وزارت آئی ٹی کی کارکردگی کے ناقابل تردید ثبوت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ان پراجیکٹس کا مختصر احوال بتایا جائے تو یہ سمجھ لیں کہ قبائلی علاقہ جات جو اب خیبر پختونخوا کا حصہ ہیں اور بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں براڈ بینڈ سروسز اور آپٹیکل فائبر کیلئے آٹھ ارب 81 کروڑ روپے کے ریکارڈ منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں، اسی طرح چاغی، نوشکی، گوادار، کیچ اور پنجگور کے پسماندہ اور دور دراز علاقوں جبکہ جہلم، چکوال کیلئے بھی مختلف پراجیکٹس منظور ہوچکے ہیں جن کے تحت 86 ہزار 773 مربع کلومیٹر میں 9 لاکھ 88 ہزار افراد کو وائس اور براڈ بینڈ سروسز کی فراہمی پر مجموعی طور پر چار ارب 15 کروڑ روپے خرچ کیے جارہے ہیں۔

وفاقی وزیر سید امین الحق نے کہا کہ سندھ کے اضلاع کیلئے منصوبے ہیں لیکن وزیراعلی سندھ اس تقریب میں شریک نہیں ہوئے، اس کے باوجود میں سندھ حکومت سے اپیل کروں گا کہ جن منصوبوں پر دستخط کیئے گئے ہیں ان کی تکمیل کیلئے جہاں تک ممکن ہو سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائیں تاکہ سندھ کے شہروں اور اضلاع کے عوام کو ٹیکنالوجی کی فراہمی ممکن ہوسکے، یہ وہی لوگ ہیں جن کے ووٹوں سے آج آپ اقتدار میں بیٹھے ہیں اگر اس میں کوئی رکاوٹ ڈالی گئی تو یہ ہم سے نہیں بلکہ سندھ کے عوام سے زیادتی ہوگی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here