بھنگ: مستقبل میں اربوں ڈالر کی صنعت بننے کی جانب گامزن

ادویہ سازی میں استعمال کی وجہ سے 2018ء میں عالمی منڈی میں 200 ملین ڈالر سے بڑھ کر 2019ء میں 100 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، 2025ء تک بھنگ کی عالمی تجارت 300 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان

2027
فوٹو: انٹرنیٹ

بھنگ یا (Cannabis) کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی بنی نوع انسان کی تاریخ، ماہرین آثار قدیمہ کی تحقیق کے مطابق قدیم دور میں بنی اسرائیل عبادت کے دوران بھنگ جلایا کرتے تھے تاکہ لوگوں پر وجدانی کیفیت طاری ہو جائے۔ یوں تو عام طور پر بھنگ کو کیف و سرورحاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے لیکن اس کا استعمال طبی مقاصد کے لیے بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔

طبی مقاصد میں اولین ترجیح میں درد کی شدت کو کم کرنے کے لیے بھنگ کا استعمال کیا جاتا ہے، ادویہ کے طور پر بھنگ برطانیہ، آسٹریلیا، برازیل، کینیڈا، فن لینڈ، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈز، نیوزی لینڈ، پولینڈ، پرتگال، سری لنکا، تھائی لینڈ سمیت کئی ممالک میں استعمال کی جاتی ہے۔

Hemp buds for export sit at the CPlant company's farm on the outskirts of Tala, Uruguay, August 13, 2020.
فوٹو: انٹرنیٹ

بھنگ کے پودے سے نکلنے والے کیمیکل سی بی ڈی کو قدرتی طور پر صحت کی نگہداشت کیلئے آنے والے وقتوں کی بہترین چیز قرار دیا جا رہا ہے ، کہا جاتا ہے کہ یہ کیمیکل درد کشائی میں انتہائی مفید ہے۔ ممکنہ طور پر اس کے استعمال سے اضطراب اور افسردگی میں کمی واقع ہوتی ہے۔ یہ کیمیکل کینسر کی علامات اور کینسر کے علاج کے دوران مضر اثرات جیسے متلی اور قے وغیرہ کو بھی کم کرتا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ نشہ آور بھی نہیں ہوتا۔

موجودہ دور میں بھنگ کی فروخت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے، زیادہ فروخت کا دارومدار اس کی جدید تقاضوں اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق پیکنگ پر منحصر ہے۔ اگرچہ اس میں فضلے کی پیدا ہونی والی زیادہ مقدار باعث تشویش ہے۔

Founder Institute Image
فوٹو: انٹرنیٹ

بھنگ کے پودے سے سی بی ڈی حاصل کرنا کافی آسان ہے، یعنی پودے سے کیمیکل نکالنا اور پھر اسے کیریئر آئل جیسے ناریل وغیرہ کے تیل میں ملانا ہوتا ہے لیکن پیکنگ کے بغیر فروخت کا اتنا بڑا ہدف حاصل کرنا مشکل ہے کیونکہ سال 2017ء میں بھنگ کے پھولوں کی فروخت 89 فیصد سے کم ہو کر سال 2020ء میں 61 فیصد پر آ چکی ہے یعنی تین سالوں میں اصلی حالت میں بھنگ کی فروخت میں 28 فیصد کمی واقع ہو چکی ہے۔

پوری دُنیا میں ’کینابیز آئل‘ کی برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ چین، امریکا، بھارت اور افریقا اس کی ایکسپورٹ کے حوالے سے سرفہرست ہیں۔ سال 2018ء میں عالمی مارکیٹ میں اس کی فروخت 200 ملین ڈالر سے زیادہ تھی لیکن 2019ء میں اس کی فروخت میں تیزی آنے سے یہ 100 ارب ڈالر سالانہ تک بڑھ گئی، توقع کی جا رہی ہے کہ 2025ء تک بھنگ کی عالمی تجارت 300 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

medical cannabis.
فوٹو: انٹرنیٹ

امریکہ میں بھنگ کی صنعت تیز ترین ترقی کرنے والی صنعتوں میں سے ایک ہے، کچھ مبصرین کے مطابق صرف امریکہ میں 2020ء میں 22 ارب ڈالر کی بھنگ فروخت ہوئی، کئی ممالک میں یہ ایک چھوٹی گھریلو صنعت کے طور پر ابھر رہی ہے، اس کی آن لائن فروخت بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے جہاں 30 ملی لیٹر سی بی ڈی تیل کی بوتل 75 ڈالر تک فروخت کی جا رہی ہے۔

پاکستان میں بھی حکومت نے ادویات میں استعمال کے لیے ایک محدود پیمانے پر بھنگ کی کاشت کی اجازت دی ہے لیکن اس کی کاشت حکومت کی نگرانی میں ہو گی اور نجی شعبے کو اس منصوبے میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔

Researcher Taking a Few Cannabis Buds for Scientific Experiment
فوٹو: انٹرنیٹ

حکومتِ پاکستان کے مطابق بھنگ کی کاشت سے آئندہ تین سالوں میں پاکستان ایک ارب ڈالر کا زرمبادلہ کما سکتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے مطابق بھنگ کی مقامی فارماسیوٹیکل انڈسٹری کو فروخت کے علاوہ اسے بیرون ملک برآمد بھی کیا جا سکے گا جہاں یہ ادویات کی تیاری میں استعمال ہو رہی ہے اور یہ سب کچھ حکومتی نگرانی میں کرانے کا مقصد منشیات کے طور پر اس کا استعمال روکنا ہے۔

عالمی سطح پر اس قدر مفید سمجھی جانے والی اور تیزی سے ترقی کرتی بھنگ کی صنعت سے الگ رکھنا پاکستان کے لیے کسی طور مناسب نہیں۔ تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ مناسب قانون سازی کی جائے اور پالیساں بنائی جائیں تاکہ آنے والے سالوں میں بھنگ کی برآمد سے بھرپور فائدہ اُٹھایا جا سکے اور اس کے بطور منشیات استعمال کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here