‘حکومت گندم کی امدادی قیمت 1800 روپے فی من مقرر کرے’

بھارت میں اکتوبر 2019 کی مقرر کردہ امدادی قیمت پاکستانی روپوں کے حساب سے 1925 روپے فی من تھی جس میں گزشتہ برس کے مقابلے میں 4.6 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ چینی حکومت کے مالیاتی سال 2021 کے لیے مقرر کردہ گندم کی امدادی قیمت پاکستانی روپوں کے حساب سے کم از کم 2001 روپے فی من بنتی ہے

232

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ (این ایف ایس آر) نے وزارتِ نیشنل فوڈ سکیورٹی سے گندم کی امدادی قیمت 1800 روپے فی من کرنے کی درخواست کر دی۔

مذکورہ قائمہ کمیٹی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ خطے میں گندم پیدا کرنے والے ممالک نے گندم کی امدادی قیمت میں اضافہ کیا ہے اس لیے گندم کی امدادی قیمت 1650 روپے سے بڑھا کر 1800 روپے فی من مقرر کی جائے۔

رکن قومی اسمبلی راؤ محمد اجمل خان نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔

اس سے قبل، اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے گندم کی امدادی قیمت 1600 روپے سے بڑھا کر 1650 روپے فی من مقرر کی تھی، ای سی سی نے گندم کے کاشتکاروں کی پیداواری لاگت کا تخمینہ لگانے کے بعد مختصر وقت میں دوسری بار مذکورہ قیمت کو تبدیل کیا تھا۔

وزارتِ فوڈ سکیورٹی نے گندم کے کسانوں کی پیداواری لاگت فی من 1585 روپے کا تخمینہ لگایا تھا لیکن حکومت نے گندم کی امدادی قیمت 1600 روپے فی من مقرر کی تھی۔

اس فیصلے کے بعد ای سی سی کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے بعد ای سی سی نے گندم کی امدادی قیمت میں 50 روپے اضافہ کر کے اس کی قیمت فی من 1650 روپے مقرر کی تھی۔

یہ بھی مدِ نظر رہے کہ سندھ نے فی من گندم کی امدادی قیمت 2000 روپے مقرر کی تھی۔

سیکرٹری نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ غفران میمن نے بتایا کہ پنجاب کی مارکیٹ سطح پر کمیٹی نے مالیاتی سال 2020-2021 کے لیے گندم کی پیداواری لاگت کا 1586.88 روپے فی من اندازہ لگایا، قیمت مقرر کرنے کا یہ اندازہ ایگریکلچر پرائس انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے سروے کی بنیاد پر لگایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے:

وفاقی کابینہ نے گندم کی امدادی قیمت 1650 روپے فی من مقرر کر دی

’گندم اور چینی درآمد کرنا پڑ رہی، زرعی تحقیق پر توجہ دینا ہو گی‘

میمن نے کمیٹی کو مزید کہا تھا کہ بھارت میں اکتوبر 2019 میں کم سے کم گندم کی امدادی قیمت 1925 روپے فی من تھی۔ “گزشتہ برس کے مقابلے میں اس قیمت میں 4.6 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

پاکستانی روپوں کے حساب سے گندم کی امدادی قیمت کم از کم 1725 روپے فی من بنتی ہے، چینی حکومت نے مالیاتی سال 2020-2021 کے لیے گندم کی جو امدادی قیمت مقرر کی وہ پاکستانی روپوں کے حساب سے کم سے کم 2001 روپے فی من بنتی ہے”۔

یاد رہے کہ رواں برس گندم بحران سے بچنے اور گندم کی بڑھتی قیمت کے باعث کسانوں کو گندم کی پیداوار زیادہ کرنے کے لیے اضافی امدادی قیمت کی پیشکش کی گئی۔

تاہم، وزارتِ تجارت نے وزارتِ خوراک کو مالیاتی سال 2021 کے مارچ سے اپریل کے دوران اضافی گندم درآمد کرنے سے باز رہنے کی تجویز کی ہے، کیونکہ پاکستان میں تب تک مقامی گندم دستیاب ہو جائے گی۔

حکومت نے سال 2021 کے مارچ سے اپریل کے دوران 2.15 ملین میٹرک ٹن گندم پاکستان میں آنے کا اندازہ لگایا ہے، جو پہلے ہی کافی ہے اور اضافی طلب پوری کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here