سرما کیلئے ایل این جی کی خریداری، قیمت طے شدہ معاہدوں سے مختلف کیوں؟

موسم سرما کی سپاٹ پرائس کا پہلے سے طے شدہ طویل المدتی معاہدہ کی قیمت کے ساتھ موازنہ سیب اور سنگترے کے موازنے کرنے کے مترادف ہے، پٹرولیم ڈویژن کے ترجمان

371

اسلام آباد: پٹرولیم ڈویژن کے ترجمان نے کہا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر گیس کی طلب اور رسد کی صورت حال کے مطابق موسم سرما میں موسم گرما کے مقابلے میں ایل این جی کی سپاٹ پرائس زیادہ ہوتی ہے۔

منگل کو ایک بیان میں ترجمان پٹرولیم ڈویژن نے کہا کہ موسم سرما کی قیمت کا موسم گرما کے طویل المدتی معاہدوں کی قیمت کے ساتھ موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ موسم سرما کی سپاٹ پرائس کا طویل المدتی معاہدے کی قیمت کے ساتھ موازنہ سیب اور سنگترے کا موازنہ کرنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2020ء میں پاکستان نے تمام ایل این جی کارگوز 6.84 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی اوسط قیمت پر خریدے ہیں اور ان میں نومبر، دسمبر 2020 اور آئندہ سال کے ابتدائی دو ماہ جنوری اور فروری (موسم سرما) کے لئے زیادہ قیمت والے کارگوز بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: 

تیل و گیس کی تلاش کیلئے 20 نئے بلاکس کی نیلام کا فیصلہ

فلوٹنگ یونٹس کے ذریعے اہم صارفین کو گیس فراہمی کا منصوبہ شروع

گیس بحران سے نبردآزما ہونے کیلئے صنعتوں کو نئے کنکشن دینے پر پابندی

تاہم انہوں نے کہا کہ رواں سال طویل المدتی معاہدے کے مطابق تمام کارگوز 8.06 ڈالر کی اوسط قیمت پر حاصل کئے گئے ہیں جو 18 فیصد زیادہ ہے۔

ترجمان کے مطابق پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) پیپرا رولز پر عملدرآمد کی پابند ہے جس کے تحت 30 دن کے ٹینڈر کے لئے مزید 10 دن ضروری ہیں اور جب بھی گیس کی طلب کی تصدیق ہوتی ہے، پی ایل ایل اس سے 90 سے 100 دن پہلے ٹینڈر کا عمل شروع کر دیتی ہے۔

پٹرولیم ڈویژن کے ترجمان کے بقول یہ بار بار کہا جا رہا ہے کہ 2019ء میں اکتوبر، دسمبر کےلئے ٹینڈر اگست میں جاری کیا گیا جبکہ 2020ء میں ٹینڈرز تاخیر سے جاری ہوئے، تو حقائق یہ ہیں کہ اکتوبر اور دسمبر 2019ء کے دس کارگوز کے لئے ٹینڈر گیس کی مجموعی طلب کی تصدیق سے قبل اگست میں جاری کیا گیا اور جب حتمی طور پر طلب کی تصدیق ہوئی تو 10 میں سے صرف تین ٹینڈر دیئے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ دسمبر 2019ء میں کارگوز کی اوسط قیمت 7.81 ڈالر تھی جو دسمبر 2020ء کی 6.34 ڈالر قیمت سے زیادہ ہے۔ سپاٹ خریداری ان صارفین کی طرف سے گیس کی طلب کی تصدیق ہونے کے بعد ہی کی جا سکتی ہےجو اس کی مکمل قیمت ادا کرنے کو تیار ہوں۔

انہوں نے کہا کہ گیس کی مختلف تنصیبات کو درپیش تکنیکی مسائل کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں ایل این جی کی فراہمی میں دشواری کا سامنا ہے اور امکان ہے کہ آئندہ سال مارچ تک سپلائی میں رکاوٹیں دور ہو جائیں گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here