موسمیاتی تبدیلیوں اور کورونا کی وجہ سے دنیا کو 28 کھرب ڈالر کے نقصانات کا اندیشہ

273

اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیاں اور کووڈ 19 مشترکہ بحران ہیں جن کی وجہ سے دنیا بھر میں معیشتیں تباہ ہو رہی ہیں اور انسانی المیے جنم لے رہے ہیں۔

عالمی مالیاتی فنڈ کی رپورٹ کے مطابق کورونا وباء 17 لاکھ  افراد کی زندگیاں نگل چکی ہے اور کروڑوں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں، آئندہ پانچ سال کے دوران عالمی سطح پر 28 کھرب ڈالر کے نقصانات کا اندیشہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

وبا، معاشی بحران اور قحط کے خدشات، آئندہ سال 35 ارب ڈالر امداد درکار ہو گی

’1960ء کے بعد ایشیائی معیشتیں سب سے زیادہ متاثر، آئندہ سال بھی بحرانی ہوگا‘

کورونا وائرس: ’معاشی بحران سے ساڑھے 11 کروڑ افراد انتہائی غربت کا شکار ہو سکتے ہیں‘

دوسری جانب موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجہ میں بھی دنیا بھر میں انسان اور ان کے وسائل بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ آئی ایم ایف نے اپنے ایک بلاگ میں کہا ہے کہ دونوں بحرانوں سے عالمی سطح پر ناصرف کم آمدنی والے اور غریب طبقات بلکہ امیر ممالک اور اہل ثروت افراد کو بھی مسائل درپیش ہیں۔

آئی ایم ایف کے مطابق مستقبل کی پیش بینی اور کم تیاری کی وجہ سے دونوں بحران اقوام عالم کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ عالمی برادری کے لیے موسمیاتی تبدیلیاں اور کووڈ 19 کے مشترک بحران باہمی طور پر مربوط ہیں تاہم گرین پبلک سرمایہ کاری میں اضافہ سے دونوں کے مسائل میں خاطر خواہ کمی لائی جا سکتی ہے۔

عالمی مالیاتی فنڈ نے کہا کہ دنیا کو اس بات کا احساس ہے اور معاشی بحالی کے ساتھ ساتھ  لوگوں کے روزگار کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں تاہم گرین پبلک سرمایہ کاری کے فروغ مربوط اور سمارٹ فیصلوں کی ضرورت ہے تاکہ معاشی بحالی کا عمل تیز اور عام افراد پر بحرانون کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔

آئی ایم ایف نے عالمی برادری کو تجویز پیش کی ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور کووڈ 19 کے منفی اثرات کو کم کرنے کیلئے ٹیکنالوجی پر مبنی نئی ایجادات سے استفادہ کو ترجیح دی جائے۔

عالمی ادارہ نے توقع ظاہر کی کہ یورپی یونین اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے آئندہ چند سال کے دوران گرین پراجیکٹس پر 640 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی سے موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصانات سے بچا جا سکے گا اور اسی طرح کووڈ 19 کی وجہ سے معاشی بحالی کیلئے بھی عالمی سطح پر مربوط اور جامع اقدامات کی ضرورت ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here