قرض پروگرام دوبارہ شروع کرنے کیلئے پاکستان آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے میں ناکام

آئی ایم ایف نے ستمبر 2020ء تک سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کی ملکیت، ریگولیٹر یا شئیرہولڈر کے طور پر حکومت کے کردار کو واضح کرنے کیلئے پارلیمان میں قانون پیش کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن تاحال ایسا نہیں کیا گیا

394

اسلام آباد: حکومت سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات متعارف نہیں کرا سکی جس کا مطالبہ آئی ایم ایف نے چھ ارب ڈالر کے قرضہ پروگرام کی بقیہ رقم کی فراہمی کیلئے کر رکھا ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے نے حکومت پاکستان کو کہا تھا کہ وہ سرکاری اداروں (ایس او ایز) کو جدید خطوط پر استور کرنے کے علاوہ ان انٹرپرائزز کی ملکیت، ریگولیٹر یا شئیرہولڈر کے طور پر حکومت کے کردار کو واضح کرنے کیلئے پارلیمان میں ایک نیا قانون پیش کرے، اس کیلئے ستمبر 2020ء تک مہلت دی گئی تھی۔

آئی ایم ایف نے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کر رکھا تھا کہ وہ خسارے میں چلنے والی سرکاری ملکیتی انٹرپرائزز کو فروخت کرنے، اثاثہ جات کو شئیر ہولڈرز میں تقسیم کرنے یا پھر انہیں سرکاری ملکیت میں ہی رکھنے کے حوالے سے باقاعدہ کمپنیوں کی شکل دے۔

اگرچہ وفاقی کابینہ نے ایس او ایز گورننس اینڈ آپریشنز ایکٹ 2020ء کے مسودہ قانون کی توثیق 16 ستمبر کو کر دی تھی لیکن اس کے بعد نا یہ مسودہ قانون پارلیمان میں پیش کیا گیا اور ناہی حتمی تاریخ سے قبل سرکاری انٹرپرائزز کی حیثیت کے بارے کوئی فیصلہ ہوسکا۔

تاہم پرافٹ کی جانب سے ایک سوال پر سیکریٹری فنانس نوید کامران بلوچ نے بتایا کہ مذکورہ مسودہ قانون اور سرکاری انٹرپرائزز کی حیثیت کے تعین کے حوالے سے کارروائی حتمی مراحل میں ہے۔

مذکورہ قانون کے حوالے سے ذرائع نے پرافٹ کو بتایا کہ کمرشل سرکاری اداروں کی پروکیورمنٹ پالیسیاں آزادانہ اور چارٹرڈ انسٹی ٹیوٹ آف پروکیورمنٹ (سی آئی پی)  کے عین مطابق ہیں اور ایسا وفاقی حکومت کی منظوری سے کیا جاتا ہے۔

اس سے قبل آئی ایم ایف کے ایک ٹیکنیکل مشن نے پاکستان کا دورہ کرکے مختلف سرکاری اداروں کے بارے میں تفصیلی طور پر چھان بین کی تھی جس دوران مذکورہ اداروں کو چلانے کیلئے انتظامی امور میں کافی خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔

آئی ایم ایف کی جانب سے چھ ارب ڈالر کے بیل آئوٹ پیکج میں سے ابھی تک پاکستان کو دو اقساط ہی مل سکی ہیں، پروگرام معطلی کے باعث حکومت کو شدید مالی دبائو کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ سعودی عرب نے بھی تین ارب ڈالر کا قرضہ واپس مانگ لیا تھا جس میں سے پاکستان نے رواں ماہ تک دو ارب ڈالر واپس کر دئیے ہیں۔

میڈیا رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 31 دسمبر تک بجلی کے نرخ 3 روپے 30 پیسے بڑھائے جانے کا امکان ہے اور ایسا آئی ایم ایف پروگرام کو دوبارہ شروع کرانے کیلئے کیا جا رہا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here