راوی اربن منصوبے کی حدود میں آنے والی صنعتوں اور رہائشی آبادیوں کا مستقبل کیا ہوگا؟

682

لاہور: وزیراعظم عمران خان نے صنعتوں کو رواں دواں رکھنے کے لئے راوی اربن ڈویلپمنٹ منصوبے کے نوٹیفائیڈ ایریا میں پہلے سے واقع تمام صنعتی یونٹوں کو منصوبے سے خارج کرنے کا حکم دے دیا۔

علاقے میں موجود تمام صنعتیں بدستور کام کرتی رہیں گی اور انہیں وہاں سے باہر منتقل نہیں کیا جائے گا، اس کے علاوہ دریا کے راستے میں نہ آنے والی رہائشی آبادیوں کو بھی ایکوائر نہیں کیا جائے گا۔

مقامی صنعت کاروں نے وزیر اعظم کے فیصلے کا خیر مقدم اور اس یقین دہانی پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا ہے اور اس معاملے میں بے یقینی ختم کرکے لوگوں کی بے چینی دور کرنے پر وزیر اعظم پاکستان اور وزیراعلی پنجاب کا شکریہ ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے ہزاروں افراد کے بے روزگار ہونے کا خطرہ ٹل گیا ہے، انہوں نے اس منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ کسی کے بہکاوے میں نہیں آئیں گے۔

وزیراعظم کی ہدایت پر راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ترجمان ایس ایم عمران اور سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو بابر حیات تارڑ نے محمود بوٹی اور رنگ روڈ سے ملحقہ علاقوں کے صنعت کاروں سے ملاقات کی۔

یہ بھی پڑھیے:

وزیراعظم نے راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھ دیا

شہد کی پیداوار بڑھانے کیلئے ”بلین ٹری ہنی“ پروگرام کا اجراء

لاہور کے راوی اربن ڈویلپمنٹ پروجیکٹ میں آٹھ ارب ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری متوقع

اس موقع پر چیئرمین پی ایچ اے یاسر گیلانی اورایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو عبدالرﺅف مہر بھی موجود تھے، ایس ایم عمران نے بتایا کہ وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ اس منصوبے کے لئے کم سے کم شہریوں کو ایک سے دوسری جگہ منتقل کیا جائے چنانچہ اس مقصد کے لئے تقریباً اڑھائی ہزار ایکڑ اراضی پر واقع آبادیوں کو ایکوائر نہیں کیا جائے گا۔

ایس ایم عمران نے صنعت کاروں کو راوی اربن منصوبے کے بارے میں بریفنگ دی اور ان کے سوالات کے جواب دئیے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت دریائے راوی کے ساتھ ساتھ واقع سیلابی علاقے میں لاتعداد آبادیاں بن چکی ہیں، بھارت کی طرف سے کسی بھی موقع پر سیلاب کا پانی چھوڑنے سے ان آبادیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ان چند آبادیوں کو ایکوائر کرنا مجبوری ہو گی۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں دریا کے دونوں طرف 28 فٹ اونچی دیواریں تعمیر کی جائیں گی اور تین بیراج بنائے جائیں گے، اس طرح یہاں پانی اکٹھا کرکے 46 کلومیٹر طویل جھیل بنائی جائے گی اور پانی ضائع ہونے سے بچایا جا سکے گا، یہ پانی دریا کے ساتھ ساتھ 340 کلومیٹر کے علاقے میں آب پاشی کی ضروریات کے لئے استعمال کیا جا سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس جھیل کے قیام سے لاہور میں زیر زمین پانی کی سطح میں بہتری آئے گی، اس کے علاوہ یہاں سات واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ بھی لگائے جائیں گے جن کے ذریعے روزانہ 836 کیوسک پانی ٹریٹ کر کے دریا میں ڈالا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here