‘کے الیکٹرک کے مسائل دور کریں، چھ ماہ میں ہم شئیرز خرید لیں گے’، چینی کمپنی

297

اسلام آباد: چین کی شنگھائی الیکٹرک پاور (ایس ای پی) نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ کے الیکٹرک کو خریدنے کا عمل چھ ماہ میں مکمل ہو جائے گا مگر ضروری ہے کہ اُس سے قبل مسائل حل کر لیے جائیں۔

وزیر برائے نجکاری محمد میاں سومرو اور وزیرِ توانائی عمر ایوب کی زیرِصدارت کے الیکٹرک کے شئیرز کی شنگھائی الیکٹرک کو منتقلی کے حوالے سے درپیش مسائل پر رواں ماہ میں دوسرا اجلاس منعقد کیا گیا، اجلاس میں شنگھائی الیکٹرک کے حکام نے آن لائن شرکت کی۔

چینی حکام نے کہا کہ ایک بار کے الیکٹرک کے زیرِالتواء مسائل واضح ہو جائیں تو انہیں بزنس پلان مرتب کرنے میں تقریباََ دو ماہ لگیں گے اور کے الیکٹرک کے ساتھ حصص کی قیمت پر بھی اتفاق ہو جائے گا، ایک بار یہ سب طے پا جائے تو ریگولیٹڑی اور انتظامی امور کی انجام دہی کیلئے مزید چار ماہ درکار ہوں گے۔

اجلاس کا مقصد کے الیکٹرک کے شئیرز کی منتقلی کیلئے نیشنل سکیورٹی سرٹیفکیٹ (این ایس سی) کے اجراء کے حوالے سے تمام زیرِالتواء مسائل پر اتفاق رائے پیدا کرنا، اب تک پیش رفت کا جائزہ لینا اور شنگھائی الیکٹرک کو اس عمل سے منسلک رکھنا تھا۔

یہ بھی پڑھیے:

کے الیکٹرک نے سکوک کی پیشکش سے 25 ارب روپے حاصل کرلیے

شنگھائی الیکٹرک کے الیکٹرک کے 66.4 فیصد شئیرز خریدنے کو تیار

اس موقع پر وزیرِ توانائی عمر ایوب نے کہا کہ کے الیکٹرک سے متعلق تمام مسائل کا جلد حل نکالنا ضروری ہے، تبھی شنگھائی الیکٹرک کا کے الیکٹرک کے حصص حاصل کرنے کے لیے رضامندی ظاہر کرنے اور کمپنی کی بہتری کے لیے بزنس پلان تشکیل دینے کا امکان ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ دونوں کمپنیوں کے ساتھ انتظامی سطح پر ڈی او ای (Deed of Extinguishment) اورڈی او یو (Deed of Undertaking) کے مسودے پر اتفاق ہو چکا ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے توانائی نے کہا ہے کہ حکومت کے الیکٹرک کی آپریشنل رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے اور اس کے تھرمل پلانٹس کو چلانے کیلئے گیس کی دستیابی کو یقینی بنا رہی ہے، کمپنی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے قومی گرڈ سے اضافی بجلی بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

شنگھائی الیکٹرک کے نمائندے شی منگ وی نے کہا کہ ان کی کمپنی کے الیکٹرک کے ذمے ادائیگیوں اور واجب الادا رقوم کے حوالے سے بات چیت سے آگاہ ہے اورامید ہے کہ تمام معاملات خوش اسلوبی سے حل کر لیے جائیں گے اور مستقبل کیلئے بہتر حکمت عملی اپنائی جائے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here