معاشی میدان میں چین کس سال امریکا سے آگے نکل جائے گا؟

2030ء تک اگر بھارت کو جاپان پیچھے چھوڑنے میں کامیاب ہو گیا تو وہ دنیا کی تیسری بڑی معیشت بن کر ابھرے گا، جرمنی چوتھے سے پانچویں نمبر پر آ جائے گا، برطانیہ اس وقت دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے جو 2024ء سے چھٹے نمبر پر چلا جائے گا، رپورٹ

581

لندن: ماہرین کے ایک گروپ کے مطابق چین 2028 تک معاشی میدان میں امریکہ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی سب سے بڑی معیشت بن جائے گا۔

اس سے قبل چین کے ممکنہ طور پر دنیا کی سب سے بڑی معاشی قوت بننے کیلئے 2033ء کا تخمینہ لگایا تھا تاہم کورونا وائرس سے پیدا شدہ بحران جہاں امریکا سمیت دنیا بھر کی معیشتوں کو شدید نقصان پہنچا رہا وہیں یہ چین کے حق میں قدرے بہتر ثابت ہوا ہے اور وبا کے دوران بھی چین دنیا کو کورونا سے نمٹنے کا سامان فروخت کر کے اربوں ڈالر کما رہا ہے۔

برطانیہ میں قائم سینٹر فار اکنامکس اینڈ بزنس ریسرچ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان سافٹ پاور کی کوششوں کا یہ منظرنامہ دنیا کی معیشتوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

’چین رواں سال مثبت شرح نمو پانے والی واحد بڑی معیشت ہو گی‘

پاکستانی کمپنی انٹرلوپ بنگلہ دیش سے سرمایہ کاری کیوں نکال رہی ہے؟ 

ورلڈ بنک نے عالمی معیشت کی کورونا سے پہلی والی سطح پر واپسی ناممکن قرار دے دی

رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس وبا اور اس سے پیدا ہونے والا معاشی بحران یقینی طور پر چین کے حق میں ہو گیا ہے، چین نے وبا پر قابو پانے میں بہترین صلاحیتیں استعمال کیں، سخت ترین لاک ڈاؤن کیا اور وبا سے شدید متاثرہ مغربی چین میں دیرپا ترقی کی شرح میں اضافہ کیا جس سے مجموعی چینی معاشی کارکردگی بہتر ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق چین کی سالانہ اوسط معاشی نمو کی شرح 2021ء سے 2025ء تک 5.7 فیصد رہنے کی توقع ہے جو 2026ء سے 2030ء تک سالانہ 4.5 فیصد تک رہنے کا امکان ہے جبکہ وبا کے بعد امریکہ کو 2021ء میں بھی سنبھلنے میں وقت لگے گا اور 2022ء سے 2024ء تک امریکہ کی شرح نمو 1.9 فیصد تک کم اور اس کے بعد 1.6 فیصد تک سست رہے گی۔

2030ء کی دہائی میں بھارت کو اگر جاپان پیچھے چھوڑنے میں کامیاب ہو گیا تو ڈالر کے اعتبار سے جاپان دنیا کی تیسری بڑی معیشت بن کر ابھرے گا جبکہ جرمنی چوتھے سے پانچویں نمبر پر آ جائے گا۔ برطانیہ اس وقت دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے جو 2024ء سے چھٹے نمبر پر چلا جائے گا۔

تاہم 2021ء میں یورپین یونین کی مارکیٹ سے نکلنے کے باوجود ڈالر کے لحاظ سے برطانوی ترقی کی شرح 2035ء تک فرانس کے مقابلے میں 23 فیصد زیادہ ہو گی جس کی وجہ برطانیہ کا ڈیجیٹل اکانومی میں منتقل ہونا ہے۔

سیبر نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ 2020ء میں دنیا کی 10 بڑی معیشتوں میں سے یورپ کا آؤٹ پٹ 19 فیصد رہا اور اگر یورپ اور برطانیہ کے درمیان علیحدگی ہو جاتی ہے تو 2035ء تک یہ آؤٹ پٹ سات فیصد کی کمی سے 12 فیصد پر آ جائے گا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وبا کے عالمی معیشت پر اثرات سے افراطِ زر بڑھنے کا امکان ہے لیکن ترقی کی شرح کم نہیں ہو گی جبکہ کورونا وائرس بحران سے نمٹنے کے لیے حکومتوں کی جانب سے لیے گئے قرضے ایک بڑا چیلنج رہیں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here