بجلی کی طلب و رسد کے اعدادوشمار غیر حقیقی، لوڈشیڈنگ زیادہ، نیپرا رپورٹ مسترد

314

پشاور: خیبرپختونخوا، سندھ اور بلوچستان کی صوبائی حکومتوں نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی سالانہ رپورٹ کو ‘حقائق کے برعکس’ قرار دے دیا۔

تینوں صوبوں نے نیپرا رپورٹ کے ردِ عمل میں کہا کہ بجلی کی طلب و رسد کے حوالے سے نیپرا کے اعدادوشمار حقائق کے مطابق نہیں ہیں، سندھ اور بلوچستان میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ نیپرا کے اعدادوشمار کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

نیپرا رپورٹ کے مطابق بجلی چوری کے مسئلے کی وجہ سے توانائی کے شعبے پر ایک کھرب 600 ارب ارب روپے کے گردشی قرضے کا بوجھ ہے۔

حکومتِ خیبرپختونخوا نے وفاق کو نیپرا کی سال 2018-19ء کے حوالے سے رپورٹ پر اٹھائے گئے اعتراضات جمع کروا دیے ہیں، اعتراضات میں کہا گیا کہ کئی ایسے مسائل ہیں جنہیں ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے، ان مسائل میں ہائیڈرو پاور جنریشن اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کی استعداد میں اضافہ کرنا شامل ہیں۔

اسی طرح بجلی کی ترسیل کار کمپنیوں کے پاس بجلی چوری روکنے کا مؤثر نظام ہی نہیں ہے جس سے بجلی چوری سے صارفین پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے اور نیتجہ لوڈشیڈنگ کی صورت بجلی کے بل ادا کرنے والے عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

’بجلی کے شعبے کا گردشی قرضہ 2100 ارب سے زائد ہو گیا‘

نیپرا نے صنعتی صارفین کیلئے بجلی کے نرخوں میں کمی کی منظوری دے دی

’ناروے قابل تجدید توانائی کے شعبے میں پاکستان کیساتھ تعاون کرے گا‘

بجلی صارفین 12 ارب کا بوجھ برداشت کرنے کیلئے تیار ہو جائیں

حکومتِ خیبرپختونخوا نے تجویز دی ہے کہ تمام ترسیلی کمپنیوں کو بین الاقوامی اصولوں کے تحت بجلی چوری کو روکنے کا عملی حل پیش کرنا چاہیے جبکہ وزارتِ توانائی کو ہائیڈوپاور جنریشن پر مزید توجہ دینا ہو گی۔

نیپرا کے اعدادوشمار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت نے کہا ہے کہ رپورٹ میں دو سے تین گھنٹے لوڈشیڈنگ ظاہر کی گئی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ صوبے کو 10 سے 12 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔

بلوچستان حکومت نے ترسیل اور توانائی کی پیداوار میں کمی پر انکوائری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ واضح کیا گیا کہ بجلی کی ترسیل کار کمپنیوں کو کئی سالوں سے نقصان کا سامنا ہے اور نیپرا کو خود ان کمپنیوں کو مانیٹر کرنا چاہیے تاکہ اس بحران کو کم سے کم کیا جا سکے۔

پاور ڈویژن کے ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے اس وقت چار ہزار میگاواٹ کے غیرمؤثر اور غیرفعال پاور پلانٹس کو بند کرنے کی منظوری دی ہے جبکہ پاور ڈویژن کونسل آف کامن انٹرسٹ کے آئندہ اجلاس میں تینوں صوبوں کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کا جواب بھی دے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here