جننگ فیکٹریوں میں کپاس کی آمد 35.67 فیصد کم

160

اسلام آباد: گزشتہ سال کے مقابلہ میں رواں سال جننگ فیکٹریوں میں کپاس پھٹی کی آمد 35.67 فیصد کم ہو گئی ہے۔

پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق 15 دسمبر 2020ء تک ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں 5.05 ملین بیلز کپاس لائی گئی ہے جبکہ گزشتہ سال اسی مدت تک فیکٹریوں میں پھٹی کی آمد 7.8 ملین گانٹھیں ریکارڈ کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے:

ٹیکسٹائل برآمدات میں ریکارڈ اضافہ، ایکسپورٹ آرڈرز پورے کرنا مشکل

جولائی تا نومبر: پاکستانی ٹیکسٹائل ایکسپورٹس میں پانچ فیصد اضافہ

’1990ء کے بعد پہلی بار فیصل آباد کی ٹیکسٹائل انڈسٹری مکمل بحال‘

اس طرح گزشتہ سال کے مقابلہ میں رواں سال جننگ فیکٹریوں میں پھٹی کی آمد میں 2.75 ملین بیلز یعنی 35 فیصد سے زیادہ کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ پی سی جی اے کی رپورٹ کے مطابق موصولہ پھٹی میں سے 4.7 ملین بیلز پراسیسنگ کے عمل سے گزر رہی ہیں۔

15 دسمبر 2020ء تک پنجاب کی جننگ فیکٹریوں کو 2.9 ملین بیلز اور سندھ میں دو ملین بیلز سے زیادہ کپاس کی آمد ہوئی جس میں 4.2 ملین گانٹھیں بک چکی ہیں، ٹیکسٹائل ملز نے 4.1 ملین بیلز جبکہ برآمد کنندگان نے 62 ہزار 500 بیلز کی خریداری کی ہے۔

واضح رہے کہ وفاقی بورڈ برائے ریونیو (ایف بی آر) نے کپاس کی درآمد پر پانچ فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کر دی ہے۔ ایف بی آر نے 30 جون 2021ء تک کاٹن یارن کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here