’ناروے قابل تجدید توانائی کے شعبے میں پاکستان کیساتھ تعاون کرے گا‘

310

اسلام آباد: پاکستان میں ناروے کے سفیر نے نئی قابل تجدید توانائی پالیسی کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناروے قابل تجدید توانائی کے شعبے میں پاکستان کے ساتھ تعاون کرے گا۔

بدھ کو وفاقی وزیر بجلی و پٹرولیم عمر ایوب خان سے ناروے کے سفیر کجیل گنار ایریکسن نے ملاقات کی اور  پاکستان میں توانائی کے شعبے میں ناروے کے جاری منصوبوں سے آگاہ کیا۔

سفیر نے نئی منظور شدہ متبادل توانائی پالیسی کے پیش نظر توانائی کے شعبے کی ابھرتی ہوئی مارکیٹ اور کاروباری مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

اس موقع پر عمر ایوب خان نے کہا کہ پاکستان قابل تجدید توانائی کی بڑی استعداد کو استعمال کر رہا ہے۔ نئی قابل تجدید توانائی پالیسی موجودہ حکومت کی شفاف پالیسیوں کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے لئے سرمایہ کاری کے مواقع لائے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے 2025ء تک 25 فیصد اور 2030ء کے آخر تک 30 فیصد بجلی کی پیداوار قابل تجدید ذرائع سے حاصل کرنے اور توانائی مکس میں ہائیڈل بجلی کا 40 فیصد حصہ شامل کرنے کے لئے اہداف مقرر کئے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کھلی اور مسابقتی بولی کے ذریعے قابل تجدید توانائی کے پاور پلانٹس کو شفاف انداز میں جگہ دے گی۔ ان منصوبوں میں ٹیکنالوجی کی منتقلی کی بھی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ حکومت ملک میں ونڈ ٹربائنز اور سولر پینلز کی تیاری اور اسمبلنگ پر توجہ دے رہی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here