جرمن کمپنی کا پاکستان کی ٹی پی ایل انشورنس میں ایکویٹی شراکت کے لئے معاہدہ

یہ ٹرانزیکشن کووڈ۔19 وبا کے دوران پاکستان میں سب سے بڑی نجی شعبہ کی فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ سمجھی جا رہی ہے

200

اسلام آباد: جرمنی کی معروف کمپنی ڈی ای جی کا ٹی پی ایل انشورنس کے ساتھ ایکویٹی شراکت کے لئے معاہدہ طے پا گیا۔

ٹی پی ایل کارپوریشن لمیٹڈ کی ٹی پی ایل جنرل انشورنس نے جرمنی کے شہر کلون میں قائم کے ایف ڈبلیو گروپ کے ذیلی ادارے ڈی ای جی کے ساتھ ایکویٹی کیپیٹل کا معاہدہ کیا ہے جس کے تحت 19.9 فیصد کی ایکویٹی شراکت کی جائے گی۔

یہ ٹرانزیکشن کووڈ۔19 کی وبا کے دوران پاکستان میں سب سے بڑی نجی شعبہ کی فارن ڈائریکٹ انوسٹمنٹ (ایف ڈی آئی) طور پر کی گئی ہے۔

ٹی پی ایل انشورنس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وبا کے باعث دنیا بھر کی کمپنیاں مشکل میں ہیں جس سے ایف ڈی آئی کے بہاﺅ میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے تاہم جرمن کمپنی کے ساتھ شراکت کا اعلان سٹاک ایکسچینج میں جون 2020ء میں ہی کر دیا گیا البتہ بورڈ آف ڈائریکٹرز، شیئر ہولڈرز، ایس ای سی پی اور دیگر اداروں کی منظوری باقی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

مسلسل پانچویں ماہ پاکستان کا کرنٹ اکائونٹ سرپلس

کنسٹرکشن سیکٹر میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ

ڈی ای جی ، ٹی پی ایل انشورنس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں ایک ممبر کی تقرری کرے گا اور کمپنی کی انڈر ریٹنگ اور ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں نئی مارکیٹوں اور ڈسٹری بیوشن چینلز کی ترقی میں بھی مدد کرے گا۔

ڈی ای جی کے عالمی تجربہ اور معلومات کے ذریعے ٹیکنالوجی پر چلنے والے کاروباری ماڈل کے ساتھ ٹی پی ایل انشورنس اس بات کو یقینی بنائے گی کہ پاکستان میں تمام صارفین کی بڑھتی ہوئی متنوع ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔

کمپنی کا مقصد کسانوں اور قرض دہندگان کے مابین مالی تعاون کو بہتر بنانے کے لئے زرعی شعبہ میں نئی پروڈکٹ لائن متعارف کرا کر اپنے سماجی اثر کو بڑھانا ہے۔ یہ کمپنی کے سی ایس آر ترقیاتی ایجنڈے کا لازمی حصہ بھی ہے۔

اس حوالہ سے ٹی پی ایل انشورنس کے سی ای او محمد امین دین نے کہا کہ وہ ایک ایسے وقت میں بورڈ میں ڈی ای جی کا خیرمقدم کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں جب عالمی معیشت انتہائی مشکل دور سے گزر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یورپ کے سب سے بڑے نجی شعبہ کے ڈویلپمنٹ فائنانسر کے طور پر ڈی ای جی کے تجربہ اور مہارت کے ساتھ کام کرنے سے ٹی پی ایل کو اپنی نمو تیز کرنے اور پاکستان میں انشورنس سیکٹر کی ترقی میں زیادہ بہتر کردار ادا کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ڈی ای جی کی پاکستانی مارکیٹ میں دوبارہ آمد سے غیرملکی سرمایہ کاری اور اقتصادی ترقی کو فروغ ملے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here