کسانوں کے احتجاج میں شدت، مودی حکومت کی دوبارہ مذاکرات کی پیشکش

202

نئی دہلی: بھارت میں مودی حکومت کے نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والی کسان تنظیموں کا دارالحکومت نئی دہلی اور اس کے مضافاتی علاقوں میں دھرنا اور بھوک ہڑتال تاحال جاری ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق کسان تنظیموں کے نمائندوں نے احتجاج میں شدت لاتے ہوئے اس کا دائرہ مزید علاقوں تک بڑھا دیا ہے۔

منگل کو کسانوں کی تحریک کے 27 ویں روز بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے، اس دوران بھارتی حکومت نے کسان تنظیموں کو ایک بار پھر بات چیت کی دعوت دی ہے۔

بھارتی وزارت زراعت کی طرف سے 40 کسان تنظیموں کو بھیجے گئے ایک خط میں زرعی قوانین کے بارے میں مذاکرات کی تجویز پیش کی گئی ہے تاہم کسان تنظیموں نے کہا ہے کہ حکومت کی تجویز پر آپس میں جلد تبادلہ خیال کیا جائے گا اور اس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔

بھارت کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا ہے کہ وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر آئندہ ایک دو دن میں کسان تنظیموں سے بات کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: بھارت، مودی حکومت پر دبائو بڑھانے کیلئے احتجاجی کسانوں کی بھوک ہڑتال

کسان تنظیموں اور حکومت کے مابین اب تک مذاکرات کے چھ  دور ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک اس کے کوئی ٹھوس نتائج برآمد نہیں ہو سکے ہیں۔

اترپردیش، پنجاب، ہریانہ، راجستھان اور دیگر ریاستوں کے ہزاروں کسان دہلی کے باہر مختلف شاہراہوں پر سخت سردی کے باوجود کئی ہفتوں سے دھرنا دیئے بیٹھے ہیں، کسانوں کے دھرنا سے دہلی سمیت ملک کی کئی ریاستوں میں معمول کی سرگرمیاں مفلوج ہو کر رہ گئی ہیں، کسان تنظیموں نے دھمکی دی ہے کہ وہ احتجاج کو مزید تیز کریں گے۔

بھارت کی حزب اختلاف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ کسانوں کے مطالبات جائز ہیں جنہیں تسلیم کیا جانا چاہیے۔ کسانوں نے جے پور۔ دہلی شاہراہ پر بھی احتجاج کیا اور دھرنا دیا۔

واضح رہے کہ بھارتی پارلیمنٹ نے حال ہی میں زراعت کے متعلق تین نئے قانون پاس کئے تھے، ملک بھر میں کسان تنظیمیں ان قوانین کی سخت مخالفت کررہی ہیں۔ کسانوں کا یہ مطالبہ ہے کہ مودی حکومت نئے زرعی قانون کو واپس لے بصورت دیگر احتجاج میں شدت لائی جائے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here