پانچ ماہ میں پی ٹی آئی حکومت نے کتنے ارب ڈالر قرضہ لیا؟

520

اسلام آباد: جاری مالی سال 2020-21ء کے ابتدائی پانچ ماہ (جولائی تا نومبر) کے دوران وفاقی حکومت مختلف مالیاتی ذرائع سے چار ارب 49 کروڑ ڈالر قرضہ حاصل کر چکی ہے۔

پرافٹ اردو کے پاس دستیاب اعدادوشمار کے مطابق یہ قرضہ پورے مالی سال 2020-21ء کے لیے 12 ارب 23 کروڑ ڈالر کے سالانہ بجٹ تخمینے کا 37 فیصد ہے۔

گزشتہ مالی سال 2019-20ء کی اسی مدت کیلئے حکومت نے تین ارب 10 کروڑ ڈالر قرضہ لیا تھا جو گزشتہ سال کے 12 ارب 95 کروڑ ڈالر کے بجٹ تخمینے کا 24 فیصد تھا۔

یہ بھی پڑھیے:

سعودی قرضہ، پاکستان نے مزید ایک ارب ڈالر واپس کر دئیے

رواں سال حکومت نے کتنا قرضہ لیا اور کتنا واپس کیا؟

پاکستان کو 800 ملین ڈالر قرضوں کی واپسی پر ریلیف مل گیا

پاکستان میں مائیکرواکنامک استحکام کیلئے 30 کروڑ قرضہ ڈالر قرضہ کی منظوری

حکومت کی جانب سے رواں سال کے ابتدائی پانچ ماہ میں حاصل کردہ چار ارب 49 کروڑ ڈالر قرضے میں سے ایک ارب 30 کروڑ ڈالر (29 فیصد) بجٹ سپورٹ کے لیے حاصل کیا گیا جس کا مقصد معیشت کی تشکیل نو کرنا تھا۔

ایک ارب 62 کروڑ ڈالر یعنی 36 فیصد بیرونی تجارتی قرضہ تھا جو پہلے سے واجب الادا غیرملکی تجارتی قرضوں کی ادائیگی کیلئے لیا گیا۔ 51 کروڑ 80 لاکھ ڈالر یعنی 12 فیصد قرضہ ترقیاتی منصوبوں کی اعانت کیلئے حاصل کیا گیا، چھ کروڑ ڈالر یعنی ایک فیصد مختصر مدتی کریڈٹ کے طور پر لیا گیا جبکہ محفوظ رقم کے ذخائر (ڈپازٹس) کے طور پر ایک ارب ڈالر (22 فیصد) وصول کیے گئے۔

جولائی تا نومبر 2020ء کے دوران دو طرفہ اور کثیرالجہتی ترقیاتی شراکت داروں نے بیرونی اقتصادی امداد کی مد میں ایک ارب 87 کروڑ ڈالر آسان شرائط اور طویل المدتی ادائیگیوں کی بناء پر جاری کیے جبکہ بجٹ تخمینہ پانچ ارب 81 کروڑ ڈالر تھا۔

کثیر الجہتی ترقیاتی شراکت داروں میں سے ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) نے پانچ ماہ کے دوران پاکستان کو 71 کروڑ 20 لاکھ ڈالر، ورلڈ بینک نے 69 کروڑ 40 لاکھ ڈالر دئیے جبکہ دوطرفہ شراکت داروں میں سے فرانس نے 3 کروڑ 34 لاکھ ڈالر، امریکا نے 6 کروڑ 38 لاکھ ڈالر اور چین نے دو کروڑ 18 لاکھ ڈالر جاری کیے۔

دوسری جانب رواں سال کیلئے حکومت نے تقریباََ 10 ارب 36 کروڑ ڈالر کا بیرونی قرضہ واپس کرنے کا تخمینہ لگا رکھا ہے تاہم جولائی تا اکتوبر 2020ء تک صرف دو ارب 45 کروڑ ہی سرکاری قرضے کی مد میں ادا کیے گئے ہیں جس میں 2.03 ارب ڈالر اصل قرض جبکہ 41 کروڑ 50 لاکھ ڈالر اس پر سود ادا کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ حکومت نے دوطرفہ شراکت داروں کو 10 کروڑ 20 لاکھ ڈالر اور کثیرالجہتی شراکت داروں کو 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی ادائیگیاں کی ہیں جبکہ ایک ارب 29 کروڑ ڈالر کے بیرونی تجارتی قرضے رواں سال کے ابتدائی چار ماہ کے دوران منجمد کروائے گئے ہیں۔

دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر پر دبائو، ترقیاتی منصوبوں کی فنانسنگ اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں نے موجودہ حکومت کو مختلف مالیاتی ذرائع سے نئے قرضے لینے پر مجبور کیا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here