’دنیا کی ایک چوتھائی آبادی 2022ء کا انتظار کرے‘

13 کمپنیوں سے مختلف ممالک نے 75 لاکھ خوراکیں فراہم کرنے کے معاہدے کر لیے، آدھے سے زیادہ امیر ممالک شامل، غریب اور ترقی پذیر ممالک کیلئے تاحال چند لاکھ خوراکیں ہی خریدی جا سکیں

308

جنیوا: کورونا وائرس سے بچائو کی ویکسین پر بھی امیر ممالک کی اجارہ داری کا خطرہ منڈلانے لگا ہے، اس لیے دنیا کی ایک چوتھائی آبادی تک ویکسین 2022ء تک ہی پہنچ پائے گی۔

ایک نئی تحقیق کے مطابق بہترین حالات میں بھی ابھی دنیا کی پوری آبادی کو کورونا ویکسین دینے کے لیے صنعتی استعداد موجود نہیں ہے۔

امیر ممالک نے ویکسین کے تجربات کے نتائج سے بھی پہلے ان کے حصول کے معاہدے کر لیے تھے جبکہ ترقی پذیر ممالک کے لیے ویکسین حاصل کرنے والی ایک پارٹنرشپ ویکسین کے حصول کے لیے ابھی تک کچھ ہی حصہ حاصل کرنے کا معاہدہ کر سکی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

پاکستان میں کورونا ویکسین کب دستیاب ہو گی؟

’چار ارب ڈالر ہوں گے تو غریب اقوام کو کورونا ویکسین میسر آئے گی‘

ابوظہبی، کوورونا ویکسین کی 7 کروڑ خوراکیں ذخیرہ اور تقسیم کرنے کا اعلان

’ویکسین کے باوجود کووڈ-19 کی معاشی تباہ کاریاں جاری رہنے کا خدشہ‘

غیر سرکاری تنظیم ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کی سینئر ویکسینز پالیسی ایڈوائزر کیٹ الڈر کا کہنا ہے کہ دنیا کے غریب ترین ممالک کی حکومتیں اس وقت کے فرق کے بارے میں پریشان ہیں جو ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کو ویکسین کی ترسیل کے دوران لگے گا۔

تحقیق کے مطابق ویکسین بنانے والی 13 کمپنیوں سے مختلف ممالک نے 75 لاکھ کے قریب خوراکیں فراہم کرنے کے معاہدے کئے ہیں جن میں سے آدھے سے زیادہ امیر ممالک کو جائیں گی۔

کینیڈا نے اتنی بڑی تعداد میں ویکسین کی خوراکیں حاصل کرنے کے معاہدے کئے ہیں کہ اس کی پوری آبادی کو پانچ مرتبہ ویکسین دی جا سکتی ہے۔

امریکہ نے اتنی خوراکوں کے آرڈرز دیئے ہیں جن سے اس کی ساری آبادی کو ایک مرتبہ ویکسین کے انجکشن لگائے جا سکیں۔ انڈونیشیا اور برازیل اپنی آدھی آبادی کے برابر ہی ویکسین کی خوراکوں کے معاہدے کر پائے ہیں۔

اس تحقیق کے مطابق ویکسین بنانے والے چند بڑے صنعتکار یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ 2021ء کے اختتام تک دنیا کی چھ ارب آبادی کے لیے ویکسین تیار کر سکیں۔

لیکن اس وقت دنیا کی کل آبادی سات ارب 80 کروڑ کے لگ بھگ ہے، اگر یہ صنعت کار اپنے عزم پر عمل درآمد کرنے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں تب بھی پونے دو ارب سے زائد افراد تک ویکسین نہیں پہنچ سکے گی۔

ترقی پذیر ممالک تک ویکسین کی رسائی ممکن بنانے کے لیے عالمی ادارہ برائے صحت نےایک سسٹم بنایا ہے، اس سسٹم کے تحت جو ملک ترقی پذیر ممالک تک ویکسین کے پہنچنے کے حامی ہیں وہ ایک سے زائد ویکسینز کی پیداوار پر کام کر سکیں گے۔ اس سسٹم کے 184 ممبر ممالک ہیں اور ان میں 92 ترقی پذیر ممالک ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here