پٹرول بحران انکوائری رپورٹ، وزیراعظم کا ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ

212

اسلام آباد: وزیراعظم نے جون 2020ء میں پیدا ہونے والے پٹرول بحران کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دے دیا۔

منگل کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پٹرولیم مصنوعات کے بحران حوالے سے قائم انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر وزیراعظم کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

یہ بھی پڑھیے:

بجلی کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ

 پٹرول بحران، انکوائری کمیشن کی اوگرا کو تحلیل کرنے کی سفارش

وزیراعظم نے وفاقی وزراء اسد عمر، شفقت محمود، ڈاکٹر شیریں مزاری اور محمد اعظم خان سواتی پر مشتمل کمیٹی قائم کرنے کی منظوری دے دی۔

یہ کمیٹی انکوائری کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کرانے کے لئے لائحہ عمل مرتب کرے گی اور ایک ہفتے میں کابینہ کو رپورٹ پیش کرے گی۔

وزیراعظم نے کہا ہے کہ کمیٹی کی رپورٹ موصول ہونے پر ذمہ داران کے خلاف سخت ترین ایکشن لیا جائے گا۔

واضح رہے کہ  جون 2020ء میں ملک بھر میں پیدا ہونے والے پٹرول بحران کی تحقیقات کرنے والے انکوائری کمیشن نے وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر اور سیکرٹری پیٹرولیم کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہیں۔

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو غیرقانونی طور پر لائسنس جاری کرنے یا مارکیٹنگ کی اجازت دینے والے حکام کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کرنے کی سفارش کی ہے جبکہ سیکریٹری پیٹرولیم ڈویژن کے خلاف بھی کارروائی کی تجویز دی گئی ہے۔

رپورٹ میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو آئندہ چھ ماہ کے اندر پارلیمانی ایکٹ کے ذریعے تحلیل کرنے اور اوگرا کے غیرقانونی اقدامات کی جانچ پڑتال کرنے کے لیے جامع تفتیش شروع کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ریٹیل آؤٹ لیٹس اور تیل ڈپوؤں کو غیرقانونی طور پر ‘کے’ اینڈ ‘ایل’ فارم جاری کرنے میں ملوث پٹرولیم ڈویژن کے ڈیپارٹمنٹ آف ایکسپلوسو کے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

مزید برآں، بحران کے دوران پاکستان سٹیٹ آئل (پی ایس او) کو پہنچنے والے مالی نقصان کو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) سے پورا کرنے کی سفارش کی گئی ہے کیونکہ ان کمپنیوں نے پیٹرول کی ذخیرہ اندوزی، کم فروخت یا ریٹیل آؤٹ لٹس کو خالی ظاہر کرنے پر غیرقانونی طور پر منافع کمایا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here