پی آئی اے بھی ایف آئی اے کے ریڈار پر آ گئی

وفاقی تحقیقاتی ایجنسی پی آئی اے کی جانب سے اے ٹی آر طیارے چھ سال کیلئے مہنگی لیز پر حاصل کرنے کیخلاف تحقیقات کرے گی

314

کراچی: پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) کی جانب سے چھ سالہ مدت کے لیے مہنگی لیز پر اے ٹی آر-72 طیارے حاصل کرنے کے حوالے سے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے تحقیقات شروع کر دیں۔

اطلاعات کے مطابق پی آئی اے کی جانب سے ایک بیرونی کمپنی سے مہنگے طیارے حاصل کرنے کی وجہ سے قومی خزانے کو سات ارب روپے کا نقصان پہنچا ہے۔

اسی لیے ایف آئی اے نے قومی ائیرلائن کے ان حکام کو نوٹسز بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے جنہوں نے 2015ء میں طیاروں کی لیز کی منظوری دی تھی، یہ لیز اپریل2021ء میں ختم ہو گی تاہم س سے قبل ہی پی آئی اے اے ٹی آر-72 طیاروں کو فضائی بیڑے سے الگ کر چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

پی آئی اے نے اے ٹی ار-72 طیارے فضائی بیڑے سے الگ کر دیے

’گلگت بلتستان سے امتیازی رویہ ختم کرکے پی آئی اے کرایوں میں کمی کا اعلان کرے‘

پی آئی اے نے لیز پر تین طیارے حاصل کیے تھے جن میں ایک طیارے کی لیز کی رقم ایک 79 ہزار 500 روپے کے حساب سے ادا کی جاتی رہی جبکہ باقی دو طیاروں کی لیز کی رقم ایک لاکھ 72 ہزار 500 فی طیارہ ادا کی گئی۔

یہ بھی مدِ نظر رہے کہ پی آئی اے نے 12 دسمبر کو اے ٹی آر-72 طیارے اپنے فضائی بیڑے سے الگ کر دیے تھے۔

ان طیاروں کو غیرمنافع بخش آپریشنز کی وجہ سے بیڑے سے الگ کیا گیا تھا کیونکہ 2015 میں اس وقت کی پی آئی اے انتظامیہ نے ان طیاروں کو بھاری لیز پر خریدا تھا جس پر ایف آئی نے تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here