خیبر پختونخوا، ہائوسنگ سوسائٹیوں کیلئے نئے قواعد و ضوابط جاری

ہائوسنگ سوسائیٹیوں کو اے، بی، سی، ڈی اور میگا کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے، مین روڈ، گلیوں کی چوڑائی، پلاٹ کا سائز بھی مختص، قبرستان اور گرڈ سٹیشن کی جگہ چھوڑنا لازم ہو گا

314

پشاور: حکومتِ خیبرپختونخوا نے صوبے میں واقع ہاؤسنگ اسکیموں کے لیے کئی نئے قواعدوضوابط جاری کر دیے ہیں۔

نئے قواعدوضوابط کے مطابق نجی ہاؤسنگ سوسائیٹیز کو پانچ کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے، سب سے چھوٹی کیٹیگری 50 کنال پر مشتمل ہو گی جسے کیٹیگری ڈی کا نام دیا گیا ہے۔

اسی طرح 50 سے 100 کینال پر مشتمل ہائوسنگ سکیم کیٹیگری سی، 100 سے 200 کینال کی ہاؤسنگ سکیم بی اور 200 سے 500 کینال کی ہاؤسنگ سکیم کو اے کیٹیگری میں رکھا گیا ہے جبکہ 500 کینال سے زائد اراضی پر مشتمل میگا ہاؤسنگ سکیم کہلائے گی۔

یہ بھی پڑھیے: 

’ہاؤسنگ سیکٹر کو ہدف سے کم قرضے دینے والے بینکوں کو جرمانے ہوں گے‘

لاہور کے راوی اربن ڈویلپمنٹ پروجیکٹ میں آٹھ ارب ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری متوقع

ایل ڈی اے کی چار ہزار رہائشی یونٹس تعمیر کرنے کی منظوری

حکومت کا نیس پاک کی مدد سے پشاور میں 8,500 کنال پر ہاؤسنگ کالونی بنانے کا فیصلہ

سب سے چھوٹی کیٹیگری کی ہائوسنگ سوسائٹی میں 40 فٹ کا مین روڈ جبکہ گلیاں 25 فٹ چوڑی رکھنا لازم ہوں گی اور پلاٹ کا زیادہ سے زیادہ رقبہ ایک کینال ہو گا۔

اسی طرح ہاؤسنگ سوسائیٹیوں کے لیے قبرستان اور کوڑا کرکٹ پھینکنے کے لیے الگ سے جگہ مختص کرنا لازمی ہو گا، کیٹیگری بی سے میگا سوسائٹی تک کے لیے کم از کم دو فیصد رقبہ قبرستان کے لیے رکھا جائے گا جبکہ تجارتی سرگرمیوں کے لیے پانچ سے دس فیصد جگہ مختص کرنا ہو گی۔

مذکورہ کیٹیگری میں آنے والی سکیموں میں 10 مرلہ سے دو کینال اراضی کوڑا اکٹھا کرنے اور گرڈ اسٹیشن کے لیے رکھنا لازمی ہو گا۔ اسی طرح رہائشی پلاٹ کے سائز زیادہ سے زیادہ دو کینال رکھے جائیں گے۔

متعلقہ ڈپٹی کمشنرز (ڈی سیز) کو مذکورہ اسکیموں کے قواعدوضوابط کی جانچ پڑتال کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے جو صوبائی حکومت کے بنائے گئے قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں گے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here