حفیظ شیخ کو مشیر سے اچانک وزیر خزانہ کیوں بنایا گیا؟

564

اسلام آباد: ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو وفاقی وزیرخزانہ بننے کے بعد اب نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کی سربراہی کر سکیں گے۔

اس سے قبل عبدالحفیظ شیخ کو صوبوں اور سیاسی جماعتوں کی مخالفت کے باعث این ایف سی ایوارڈ کی سربراہی سے ہٹا دیا گیا تھا۔

امکان تھا کہ وزیراعظم عمران خان بطور منسٹر انچارج این ایف سی کے اجلاسوں کی صدارت کریں گے تاہم سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے گزشتہ پانچ ماہ کے دوران وزارتِ خزانہ کے متعلقہ حکام کے ساتھ این ایف سی ایوارڈ سے متعلق صرف ایک ہی اجلاس کی صدارت کی ہے۔

وزارتِ خزانہ نے این ایف سی اجلاس کے لیے ایک سمری تیار کی تھی لیکن ابھی تک ایک محکمانہ اجلاس ہی منعقد کیا گیا تھا جس میں وزیراعظم کو این ایف سی اور اس سے متعلقہ مسائل کے بارے میں بریفنگ دی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے: 

تنقید سامنے آنے پر جاوید جبار 10ویں این ایف سی ایوارڈ سے مستعفی

این ایف سی کی سیلز ٹیکس کی وصولی کا اختیار صوبوں کو سونپنے کی سفارش

قومی مالیاتی کمیشن سے حفیظ شیخ کی چھٹی، پُرانے ٹی او آرز بحال کردیے گئے

دسواں این ایف سی ایوارڈ : وفاق کا حصہ بڑھانے پر صوبوں کی جانب سے شدید ردعمل کا امکان

بے نظیر بھٹو نے پہلی بار بطور منسٹر انچارج این ایف سی کے اجلاسوں کی سربراہی کی تھی اور ایسا کرنے والی وہ واحد وزیراعظم ہیں، عام طور پر این ایف سی ایوارڈ سے متعلق اجلاس وزیر خزانہ کی سربراہی میں منعقد ہوتے ہیں۔

ادھر ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے جمعہ (11 دسمبر 2020ء) کو وفاقی وزیر خزانہ کے طور پر حلف اٹھایا، اس سے قبل وہ 20 اپریل 2019ء سے بطور معاونِ خصوصی برائے خزانہ و محصولات کام کر رہے تھے۔

7 دسمبر 2020ء کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصدلہ دیا تھا کہ وزیراعظم کے مشیر اور معاونین چوںکہ کابینہ کے منتخب ارکان نہیں ہیں اس لیے کابینہ کے اجلاسوں میں شرکت نہیں کرسکتے۔

حفیظ شیخ منتخب رکن اسمبلی نہیں ہیں، اس لیے ان کی بطور وفاقی وزیر تعیناتی غیرمعمولی بات ہے، ان کی تعیناتی کا نوٹی فکیشن آئین کے آرٹیکل 92 (1) اور 91(9) کے تحت جاری کیا گیا ہے۔

اندرونی ذرائع کے مطابق ’’آئینی تقاضوں کے پیش نظر حکومت کو آئندہ چھ ماہ کے دوران حفیظ شیخ کو رکنِ پارلیمنٹ بنوانا ہو گا، یہ بھی متوقع ہے کہ مارچ 2021ء میں ہونے والے سینیٹ الیکشن کے دوران انہیں سینیٹر منتخب کرا لیا جائے۔”

 2018ء میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے مفتاح اسماعیل کو بھی آئین کے آرٹیکل 92 کے تحت مشیرِ خزانہ سے وفاقی وزیر خزانے بنایا تھا۔

آئین مشیران کو این ایف سی ایوارڈ کی سربراہی کی اجازت نہیں دیتا، اس لیے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے حفیظ شیخ کی جانب سے 10ویں این ایف سی ایوارڈ کی سربراہی اور اس کے اجلاسوں کی صدارت کرنے کی مخالفت کی تھی۔

22 جولائی 2020ء کو حزب اختلاف کی جماعتوں اور بلوچستان ہائی کورٹ کے این ایف سی ایوارڈ کے خلاف فیصلے کے بعد حفیظ شیخ کو کمیشن کی چئیرمین شپ سے ہٹا دیا گیا تھا۔

یہ بھی واضح رہے کہ گزشتہ 10 سالوں سے وفاق اور صوبوں کا این ایف سی کے آٹھویں اور نویں اجلاس منعقد کرنے پر اتفاقِ رائے نہیں ہوا تھا جس کے باعث مذکورہ دونوں ایوارڈ نہیں دئیے جا سکے، ابھی تک صوبوں میں وسائل کی تقسیم کا طریقہ کار 7ویں این ایف سی ایوارڈ کی طرز پر ہی چل رہا ہے جو 2010ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے جاری کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق صوبے 7ویں این ایف سی ایوارڈ کے مطابق وسائل کی تقسیم کے طریقہ کار کے حق میں ہیں کیونکہ اب اگر طریقہ کار میں ردوبدل کیا گیا تو 2017ء کی مردم شماری کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم پر بھی فرق پڑے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here