’گلگت بلتستان سے امتیازی رویہ ختم کرکے پی آئی اے کرایوں میں کمی کا اعلان کرے‘

438

اسلام آباد: پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے) نے اندرونِ ملک پروازوں کے کرائے میں 30 فیصد رعایت دینے کا اعلان کیا ہے لیکن گلگت اور سکردو کیلئے یہ سہولت نہیں دی۔

اگرچہ پی آئی اے کی اندرونِ ملک پروازوں کے روٹس کے مقابلے میں اسلام آباد سے گلگت اور سکردو کا سفر تھوڑا ہے لیکن سکردو اور گلگت کے کرائے دیگر شہروں کی نسبت زیادہ ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ پی آئی اے کا اِن روٹس کے مسافروں کے لیے یہ امتیازی فیصلہ سمجھ سے بالا تر ہے، پی آئی اے دیگر مقامی روٹس پر زیادہ سفر ہونے کے باوجود کم کرایہ وصول کر رہی ہے جبکہ سکردو اور گلگت کے مسافروں کو محض 35 منٹ سفر کے لیے زیادہ کرایا دینا پڑتا ہے۔

اس سے قبل پی آئی اے نے 3 دسمبر 2020ء کو کراچی، لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ، فیصل آباد، سیالکوٹ اور پشاور کی پروازوں پر سفر کرنے والے مسافروں کے لیے کرایہ 30 فیصد کم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ان شہروں سے سفر کرنے والے مسافروں کو یکطرفہ کرایہ 8500 روپے جبکہ دوطرفہ 17 ہزار روپے ادا کرنا ہو گا جب کہ اس سے قبل پی آئی اے یکطرفہ کرایہ 12275 روپے اور دوطرفہ 24600 روپے وصول کر رہی تھی۔

لیکن پی آئی اے کے ذریعے گلگت بلتستان جانے والوں کو کم فاصلے کیلئے بھی 10 ہزار روپے سے 17 ہزار روپے تک کرایا دینا پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

پی آئی اے نے اندرون ملک پروازوں پر کرایہ کم کر دیا

 دو ہفتوں کیلئے رضاکارانہ بنیاد پر چھٹیاں، پی آئی اے ملازمین کیلئے نئی سکیم متعارف

خیبرپختونخوا میں آٹھ نئے سیاحتی زون بنانے کا فیصلہ

کورونا، عالمی سیاحت بدترین بحران سے دوچار، کھربوں ڈالر ڈوب گئے

پنجاب کے511 سیاحتی مقامات ایک ایپ پر دستیاب

سرمایہ کاری، سیاحت سے متعلق ویزہ پالیسی بہتر کرنے کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم

ترجمان پی آئی اے عبداللہ خان نے پرافٹ اردو کو بتایا کہ گلگت اور سکردو کے روٹس پر پہلے ہی سبسڈی دی جا رہی ہے لہٰذا ان روٹس پر کرایوں میں رعایت لاگو نہیں ہوتی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ روٹس پر رعایت دیتے وقت مختلف پہلوئوں کا جائزہ لیا گیا تھا،  کبھی کبھار غیرمعمولی موسمی صورت حال کی بنا پر پروازیں منسوخ کرنا پڑتیں ہیں جس وجہ سے ان روٹس کے مسافروں سے زیادہ کرایہ وصول کیا جا رہا ہے۔

تاہم ترجمان پی آئی اے عبداللہ خان نے یہ بھی تسلیم کیا کہ سکردو اور گلگت کے روٹس کے کرایے دیگر مقامی روٹس کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔

دوسری جانب گورنر گلگت بلتستان جلال حسین مقپون نے سربراہ پی آئی اے ارشد ملک کو ایک خط لکھا ہے جس یں انہوں نے گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ کیلئے پی آئی اے کے کرایوں میں کمی کا مطالبہ کیا ہے۔

خط میں لکھا ہے کہ “گلگت بلتستان سیاحتی اعتبار سے اہم ترین خطہ ہے کیونکہ یہاں دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو اور سب سے اونچا سیاحتی مقام دیوسائی واقع ہے، اگر پی آئی اے مسافروں کیلئے کرائے میں کمی کرے تو اس گلگت بلتستان آن والے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔”

گورنر گلگت بلتستان کے مطابق پی آئی اے اسلام آباد سے گلگت اور سکردو کی فلائٹ کیلئے 16 ہزار روپے کرایہ وصول کر رہی ہے، دیگر شہروں کیلئے 30 فیصد کرایہ کم کیا گیا ہے لیکن سکردو اور گلگت کو اس سہولت کے قابل نہیں سمجھا گیا۔

جلال حسین مقپون نے کہا کہ گلگت اور سکردو کو جانے والی دو شاہراہیں زیرتعمیر ہونے کی وجہ سے زمینی سفر کے لیے خطرناک ہیں، انہوں نے سربراہ پی آئی اے سے گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقہ جات تک رسائی آسان بنانے کے لیے پی آئی اے کے کرایوں میں کمی کرنے کی درخواست کی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here