روس اور سوڈان میں بحیرِہ احمر میں فوجی اڈے کے قیام کیلئے سمجھوتا

126

ماسکو: روس اور سوڈان کے درمیان ایک بحری فوجی اڈے کے قیام کے لیے سمجھوتا طے پا گیا ہے جو بحیرہ احمر کے کنارے واقع پورٹ سوڈان میں قائم کیا جائے گا۔

روسی حکومت نے اپنی ویب سائٹ پر اس سمجھوتے کی تفصیل جاری کی ہے، اس کے مطابق روس پورٹ سوڈان میں لاجسٹیکل سپورٹ سنٹر قائم کرے گا جہاں مرمت اور ری سپلائی کی سرگرمیاں انجام دی جائیں گی۔

اس سمجھوتے پر دونوں ملکوں کے حکام نے یکم دسمبر کو دستخط کیے تھے۔ یہ پچیس سال کی مدت کے لیے کارآمد رہے گا اور اگر فریقین میں سے کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوا تو اس کی ازخود ہی مزید دس سال کے لیے تجدید ہوجائے گی۔

سمجھوتے پر دونوں ملکوں کے حکام نے یکم دسمبر کو دستخط کیے تھے

اس دستاویز کے مطابق سوڈان میں روس کے فوجی اڈے کے قیام کا مقصد خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔

روسی بحریہ کو اس اڈے پر ایک وقت میں چار بحری جہاز لنگرانداز کرنے کی اجازت ہو گی۔ وہ جوہری ہتھیاروں سے لیس جہاز بھی وہاں لنگرانداز کر سکے گی۔

اس فوجی اڈے پر تین سو روسی فوجی اور سویلین اہلکار تعینات ہوں گے۔ روس کو اس بحری اڈے کو چلانے کے لیے ہتھیاروں، گولہ بارود اور دوسرے آلات سوڈان کے ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کے ذریعے لانے کی اجازت ہو گی۔

دوسری جانب سوڈانی حکام نے فوری طور پر اس سمجھوتے کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

واضح رہے کہ روس اور سوڈان کی مسلح افواج نے مئی 2019ء میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے سات سالہ سمجھوتے پر دستخط کیے تھے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here