رواں سال 63 فیصد زائد ٹیکس اکھٹا ہوا: ایف بی آر

8 دسمبر 2020ء 18 لاکھ گوشوارے داخل کئے گئے، تقریباََ 22 ارب کا انکم ٹیکس جمع ہوا، گزشتہ سال کے اسی عرصہ میں 17 لاکھ 30 ہزار گوشوارے جمع ہوئے تھے، 13.5 ارب روپے انکم ٹیکس حاصل ہوا تھا

259

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آڑ) نے کہا ہے کہ آخری تاریخ تک ریکارڈ انکم ٹیکس گوشوارے داخل کئے گئے ہیں اور فائلنگ کے دوران پہلی مرتبہ سب سے زیادہ انکم ٹیکس جمع کیا گیا ہے۔

ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق آخری تاریخ (8 دسمبر) تک تقریباََ 18 لاکھ انکم ٹیکس گوشوارے داخل کئے گئے اور تقریباََ 22 ارب کا انکم ٹیکس جمع ہوا۔

گزشتہ سال کے اسی عرصہ میں 17 لاکھ 30 ہزار انکم ٹیکس گوشوارے جمع ہوئے تھے جبکہ 13.5 ارب روپے انکم ٹیکس حاصل ہوا تھا۔ اس لحاظ سے رواں سال چار فیصد زائد انکم ٹیکس گوشوارے جمع ہوئے اور 63 فیصد زائد ٹیکس اکھٹا ہوا۔

حکومت نے 8 دسمبر 2020ء کے بعد مزید تاریخ میں توسیع نہیں کی جس کا بنیادی سبب ٹیکس گزاروں کا آخری تاریخ پر اعتماد بحال کرنا ہے تاکہ ٹیکس ڈسپلن کو پروان چڑھایا جا سکے۔

تاہم ٹیکس گزاروں کی سہولت کے لئے خصوصی اقدامات اٹھائے گئے ہیں، ان اقدامات میں چیف کمشنرز آئی آر کی طرف سے قانون کے تحت ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں فراخدلانہ توسیع، آن لائن طریقے سے توسیع حاصل کرنے کی درخواست کے ساتھ دستی درخواست کی بھی اجازت، ٹیکس ایڈوائزرز کو ایک درخواست پر کئی ٹیکس گزاروں کو توسیع کی سہولت اور چیف کمشنرز کی طرف سے دستی درخواستوں کی وصولی اور حدود کی نشاندہی کے لئے خصوصی ڈیسک کی تشکیل شامل ہیں۔

ان اٹھائے گئے اقدامات کی بدولت بہت سے ٹیکس گزاروں نے توسیع کے لئے درخواستیں جمع کرا دی ہیں جن کو تاریخ میں توسیع دی جا رہی ہے۔

اندازے کے مطابق تین لاکھ ٹیکس گزاروں نے توسیع کے لئے درخواست دے دی ہے جن کو اگر شامل کیا جائے تو گوشوارے داخل کرنے والوں کی تعداد 21 لاکھ تک بڑھ جائے گی جو کہ پچھلے سال اسی عرصہ کے لحاظ سے 21 فیصد زائد گوشوارے بنتے ہیں۔

ایف بی آر نے وضاحت کی ہے کہ فائلنگ ایک جاری پراسیس ہے، پچھلے سال 30 جون 2020ء تک گوشوارے جمع ہونے کا موازنہ مزید گوشوارے جمع ہونے کے بعد 30 جون 2021ء سے کرنا زیادہ موزوں ہو گا۔

ایف بی آر نے فیصلہ کیا ہے کہ ٹیکس گوشوارے نہ جمع کرانے اور توسیع کی درخواست بھی نہ دینے والوں کے خلاف موثر کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here