پاک افغان ٹریڈ میں رکاوٹیں، سیمنٹ کی پچاس فیصد مارکیٹ ایران کے پاس چلی گئی

408

پشاور: پاک-افغان تجارت میں رکاوٹوں کے باعث افغانستان میں سیمنٹ کی مارکیٹ 50 فیصد ایران کے پاس چلی گئی ہے۔

سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایس سی سی آئی) کے سابق سینئر نائب صدر شاہد حسین نے پرافٹ اردو کو بتایا کہ پاک افغان سرحد پر دوطرفہ تجارت میں کئی مسائل درپیش ہیں، افغان سیمنٹ مارکیٹ میں ایران نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔

شاہد حسین کے مطابق افغانستان کو پاکستانی سیمنٹ کی برآمدات میں کمی کی وجہ پاک-افغان سرحد پر گاڑیوں کی کلئیرنس میں حد سے زیادہ تاخیر ہے جس سے تاجروں کو کلئیرنس کرانے کے لیے  ٹرانسپورٹ لاگت کی مد میں بھاری نقصان ہوتا ہے، اسی وجہ سے ایرانی سیمنٹ کے برآمدکندگان افغانی مارکیٹ کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں سیمنٹ سے لدھی گاڑیوں کو کلئیر کرنے میں 30 روز لگ جاتے ہیں جس سے ترسیلی لاگت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

سرحد چیمبر کے سابق عہدیدار کے بقول پاکستان سے افغانستان میں برآمد کیے گئے سیمنٹ کی فی ٹن لاگت 35 ڈالر آتی ہے جبکہ ایرانی سیمنٹ مذکورہ منڈی میں 42 ڈالر فی ٹن کے حساب سے فروخت کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں برآمدی سیمنٹ کا فیکٹری ریٹ 29 ڈالر فی ٹن ہے، اگر پاک-افغان سرحد پر گاڑیاں جلد کلئیر ہوں تو پاکستانی سیمنٹ ایرانی سیمنٹ کے مقابلے میں ایک ماہ میں مارکیٹ میں دستیاب ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے:

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارتی حجم میں 36.66 فیصد کمی

سیمنٹ کی قومی برآمدات 36 فیصد اضافہ سے 2.74 ملین ٹن تک پہنچ گئیں

حکومت کا پاک افغان تجارت کے لیے غلام خان بارڈر بھی کھولنےکا فیصلہ

خیبرپختونخوا کسٹمز کلئیرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن (کے پی سی اے اے) کے صوبائی صدر ضیاءالحق نے پرافٹ اردو کو بتایا کہ افغانستان میں تعمیرِاتی سرگرمیوں میں اضافے کی وجہ سے سیمنٹ کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا کے ضم ہونے سے پہلے پولیٹیکل ایجنٹ کو طورخم سرحد کے ذریعے افغان تجارت میں درپیش مسائل حل کرنے کا اختیار ہوتا تھا تاہم اب ڈپٹی کمشنر کو اختیارات دینے کی بجائے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) کو دے دیے گئے ہیں اور اب پولیس نے مختلف مقامات پر چیک پوسٹیں قائم کر رکھی ہیں جہاں وہ کمرشل گاڑیوں سے رشوت لیتے ہیں جس وجہ سے ضلع خیبر کو کراس کرنے کے لیے ہفتے لگ جاتے ہیں۔

تاہم انہوں نے مزید کہا کہ مسائل دونوں طرف ہیں۔ دونوں اطراف سے گاڑیاں بروقت کلئیر نہ ہونے کے باعث ٹرانسپورٹ اور ترسیلی لاگت میں 200 گناہ اضافہ ہوا ہے، عام دنوں میں 40 فٹ کنٹینر کی کراچی سے جلال آباد ٹرانسپورٹ اور ترسیلی لاگت دو لاکھ آتی تھی لیکن وہیکلز کی تعداد کم ہونے سے یہ لاگت سات لاکھ تک جا پہنچی ہے۔

اس وقت افغانستان میں سیمنٹ کی خالی گاڑیوں کی تعداد تین ہزار ہے، ٹرانسپورٹ میں آسانی ہونے کی بنا پر دوسرے ممالک سے افغان مارکیٹ میں سیمنٹ وافر مقدار میں دستیاب ہے، اس لیے افغانستان کو پاکستانی سیمنٹ کی ضرورت نہیں ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here