کپاس کی پیداوار میں 37 فیصد کمی

325

لاہور: پاکستان میں کپاس کی پیداوار میں سالانہ بنیادوں پر 37 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، رواں برس 16 نومبر سے یکم دسمبر تک 4.648 ملین گانٹھیں ہی جننگ فیکٹریوں میں پہنچ سکیں جبکہ گزشتہ سال یہ حجم 7.448 ملین گانٹھیں ریا تھا۔

پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق زیرِجائزہ عرصے کے دوران 2.799 ملین گانٹھوں کی کمی ریکارڈ کی گئی جو 37.59 فیصد کمی کے برابر ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 

ای سی سی، کپاس پر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے کی منظوری

کپاس کی پیداوار میں 43 فیصد کمی، ٹیکسٹائل سیکٹر، برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ

’معیاری بیج، جدید مشینری کی دستیابی تک کپاس کے شعبہ میں بہتری کی توقع نہیں‘

پنجاب میں یکم دسمبر تک جننگ فیکٹریوں کو 2.634 ملین گانٹھیں پہنچائی گئیں جو گزشتہ سال کی 4.141 ملین گانٹھوں کے مقابلے میں 36.38 فیصد کم ہیں۔

اسی طرح زیرِجائزہ عرصے کے دوران سندھ کی جننگ فیکٹریوں میں 2.014 ملین کپاس کی گانٹھیں پہنچائی گئیں جبکہ گزشتہ برس ان گانٹھوں کی مقدار 3.364 ملین تھی، سندھ کی جننگ فیکٹریوں میں کپاس کی گانٹھوں میں 39.10 فیصد کم دیکھی گئی ہے۔

کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے اعدادوشمار کے مطابق یکم دسمبر تک ملک بھر میں کپاس کی کل 4.290 ملین گانٹھوں میں سے ٹیکسٹائل سیکٹر نے 3.794 ملین جبکہ برآمدکندگان نے 0.045 ملین گانٹھیں خریدیں۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ زیرجائزہ عرصے کے دوران 302 جننگ فیکٹریاں فعال رہیں جن سے 2.418 ملین گانٹھوں کی پیداوار کی گئی جبکہ 0.893 ملین کپاس کی گانٹھیں ابھی تک کاٹن جنرز کے پاس فروخت نہ ہونے کی وجہ سے پڑی ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here