کرپٹو کرنسی کو قانونی قرار دینے کیلئے خیبرپختونخوا اسمبلی میں قرارداد منظور

936

پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی نے کرپٹو کرنسی اور کرپٹو مائننگ کیلئے ضروری اقدامات اٹھانے اور اسے قانونی قرار دینے سے متعلق قرارداد  متفقہ طور منظور کر لی۔

خیبرپختونخوا اسمبلی میں کرپٹو کرنسی کو قانونی شکل دینے کے مطالبے پر مبنی قرارداد حکمران جماعت تحریک انصاف کی رکن سمیرا شمس نے پیش کی جس پر اپوزیشن کے دیگر اراکین کے بھی دستخط تھے۔

قرارداد میں کہا گیا کہ ’’حالیہ دور میں کرپٹو کرنسی یعنی ڈیجیٹل کرنسی کی ایجاد اور بڑھتی ہوئی مانگ کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ آنے والے دور میں لین دین کیلئے کاغذ کے نوٹ کی جگہ ڈیجیٹل کرنسی لے لے گی، حال ہی میں دنیا کے کئی بڑے بینکوں نے اس کرنسی کو قبول کر لیا ہے اور یہ رجسٹرڈ بھی ہو چکی ہے۔

Image

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ’’اس وقت کئی ممالک اپنی ڈیجیٹل کرنسیاں متعارف کرانے کی تیاریاں کر رہے ہیں اور ان کے مرکزی بینک خودمختار ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کی تیاریاں شروع کر چکے ہیں لہٰذا صوبائی اسمبلی کا یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مرکزی حکومت سے اس امر کی سفارش کرے کہ ڈیجیٹلائزیشن کی دنیا میں ہونے والی اس پیشرفت کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان میں بھی بالخصوص خیبر پختونخوا میں کرپٹو کرنسی اور کرپٹو مائننگ کیلئے ضروری اقدامات اٹھائے اور ساتھ ہی اس سلسلے میں مناسب قانون سازی بھی کی جائے۔‘‘

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی ضیاءاللہ بنگش نے اپنے ٹویٹ میں قرارداد کا عکس شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ صوبائی اسمبلی نے کرپٹو کرنسی اور کرپٹو مائننگ کے حوالے سے قرارداد منظور کر لی ہے اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے اس کرنسی کو قانونی قرار دینے کیلئے اقدامات اٹھائے۔

دوسری جانب کئی ممالک پہلے ہی روزمرہ کے استعمال کیلئے کرپٹو کرنسی کے استعمال کو فروغ دے رہے ہیں، ایسے میں پاکستان کی ڈیجیٹل  اکانومی کی ترقی کیلئے یہ قرارداد پاس ہونا کافی اہمیت کی حامل ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت کرپٹو کرنسی کے استعمال اور کرپٹومائننگ کے حوالے سے کئی ایک قوانین بھی متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here