بچت کیلئے کمیٹی ڈالنا عقلمندی کیوں نہیں؟ تین وجوہات

پُرانے وقتوں میں مالیاتی نظام میں بچت کے ذرائع نہ ہونے کی وجہ سے کمیٹی سسٹم بنایا گیا مگر وقت کیساتھ کرنسی کی گراوٹ اور مہنگائی جیسے عناصر سے تحفظ دینے اور اس بنا پر حصہ داروں کو مساوی فائدہ پہنچانے میں ناکام ہے، آج کے دور میں اس کا بہترین متبادل میوچل فنڈز ہیں جو سرمایہ کاری پر بہترین ریٹرن دیتے ہیں

2652

کمیٹیوں کے بارے سب سے پہلے میں نے اپنی دادی اماں سے سُنا تھا، وہ گھر کے لیے واشنگ مشین خریدنا چاہتی تھیں جس کیلئے انہوں نے کچھ رشتہ داروں سے کمیٹی کے بارے میں بات چیت کی اور اس کا حصہ بننے پر آمادہ کر لیا، اس وقت یعنی  نوے کی دہائی کے وسط میں واشنگ مشین کی قیمت دو ہزار روپے تھی اور یہ رقم اکٹھی کرنے کے لیے دادی اماں نے دو سو روپے ماہانہ کی کمیٹی ڈالی جس میں دس ممبران کو دس ماہ تک دو، دو سو روپے دینا پڑے، چونکہ یہ مہم دادی اماں نے شروع کی تھی لہٰذا پہلی کمیٹی بھی انہی کو ملی جس سے واشنگ مشین خریدی گئی۔

پاکستان کے کم و بیش ہر گلے محلے میں لوگ ایسے ہی کمیٹیاں ڈالتے ہیں، ہر ماہ کچھ ممبران مل کر رقم اکٹھی کرتے ہیں اور یہ رقم باری باری انہی میں سے کسی ایک کے پاس ہر ماہ چلی جاتی ہے۔

آغاز کمیٹی سسٹم کی اچھی باتوں سے کرتے ہیں، یہ سسٹم سماجی سطح پر دوستوں اور رشتے داروں کے مابین اعتماد کی بنیاد پر چلتا کرتا ہے جو ان لوگوں کو اجتماعی طور پر بچت کی طرف راغب کرتا ہے تاکہ وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے مل کر وہ رقم اکھٹی کر سکیں جو ان کی ماہانہ آمدن سے زیادہ ہو سکتی ہے، یا اپنی ضرورت کی وہ چیز خرید سکیں جو وہ اپنی بنیادی آمدن سے خریدنے کے قابل نہیں ہیں۔

لیکن کمیٹی سسٹم برا، ناقص اور غیر مصنفانہ ہے، اس کی تین وجوہات ہیں۔ اس مضمون میں ہم معاشرے میں چلنے والے بچت کے اس سسٹم کے نقائص پر بات کریں گے اور اُن باتوں کا بھی ذکر کریں گے کہ کس طرح زبردستی کی بچت کے اس طریقہ کار سے جان چُھڑا کر بھی فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔

1۔ بچت مہنگائی کے اثرات سے محفوظ نہیں رہتی 

 اگرچہ یہ بات ہر کوئی جانتا ہے مگر پھر بھی اس کی تفصیل بیان کر دینا بہتر ہو گا، کمیٹی سسٹم کی ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ یہ کوئی سرمایہ کاری نہیں ہے جس کا مطلب  ہے کہ یہ سسٹم وقت کے ساتھ بڑھتی مہنگائی اور روپے کی گھٹتی قدر جیسے مسائل سے تحفظ فراہم نہیں کرتا۔

اسے سمجھنے کے لیے فرض کیجیے کہ 12 دوستوں کا ایک گروپ دس ہزار روپے ماہانہ کی ایک کمیٹی ڈالتا ہے اور ہر ماہ ان میں سے کسی ایک کو ایک لاکھ بیس ہزار روپے ملتے ہیں جسے وہ چاہے تو خرچ کر لے یا بچت کے طور پر رکھ لے۔

یہ بھی پڑھیے: قومی بچت، بہبود، پنشنرز بینفٹ اکاﺅنٹ اور شہداء ویلفیئر اکاﺅنٹس پر شرح منافع بڑھا کر 10.32 فیصد کر دی گئی

لیکن اس میں مسئلہ یہ ہے کہ روپے کی قدر ان 12 ماہ میں کم ہوتی رہے گی، پاکستان میں مہنگائی کا طویل المدتی اندازہ اوسطاََ آٹھ فیصد ہے، تو مہنگائی کے حساب سے آپ کے پہلے ماہ بچائے جانے والے 10 ہزار روپے کا 12 ماہ کے بعد 10 ہزار 731 روپے ہونا ضروری ہے تاکہ آپ اس وقت کی مہنگائی کی صورت میں اس جمع شدہ رقم سے کوئی فائدہ حاصل کر سکیں۔

مگر چونکہ آپ کا پیسہ سرمایہ کاری نہیں تھا اس لیے کمیٹی کی مدت پوری ہونے کے بعد اس کی قدر مہنگائی کے حساب سے نہیں ہو گی بلکہ ہو سکتا ہے کہ اُس وقت اس (رقم) کی اہمیت کم ہو جائے، ایسا ہونے کی وجہ یہ ہو گی کہ اس کا استعمال کسی سرمایہ کاری سکیم میں نہیں کیا گیا بلکہ  یہ کسی کو دے دیا گیا تھا جس کی وجہ سے اس کا حجم اُتنا ہی رہا جتنا 12 ماہ پہلے تھا، اس لیے مہنگائی اور اس نے نمٹنے کے لیے درکار مالی وسائل کی ضرورت 12 ماہ بعد حاصل ہونے والی رقم سے زیادہ ہو گی۔

 2۔ غیر منصفانہ نظام 

ہمارے نزدیک یہ کمیٹی سسٹم کا سب سے بڑا نقص ہے، کہنے کو تو اس نظام کے تحت کمیٹی کے ہر حصہ دار کو برابر رقم ملتی ہے مگر روپے کی قدر میں وقت کے ساتھ ہونے والی کمی کے لحاظ سے یہ بات دُرست نہیں، کیونکہ اس عنصر کے ہوتے ہوئے پہلی کمیٹی لینے والا سب سے زیادہ فائدے میں رہتا ہے او سب سے آخری کمیٹی لینے والے کو نقصان  اٹھانا پڑتا ہے۔

اس بات کو سمجھنے کےلیے ایک بار پھر اوپر دی گئی مثال کی طرف لوٹتے ہیں جس میں پہلی کمیٹی حاصل کرنے والے شخص کو ایک لاکھ 20 ہزار روپے ملیں گے جو اس وقت کی قوت خرید کے مطابق ہوں گے، مگر آخری شخص کو جب تک کمیٹی ملے گی تب تک روپے کی قدر میں کمی اور مہنگائی میں اضافہ ہو چکا ہو گا، یوں اسے ملنے والی رقم کی قوت خرید کم ہو چکی ہو گی اور وقت کی ضروریات سے مطابقت نہیں رکھتی ہو گی، کمیٹی سسٹم میں اس نقصان کا کوئی ازالہ بھی نہیں کیا جاتا، 12 ماہ کے بعد سب سے آخر میں کمیٹی حاصل کرنے والے شخص کو ملیں گے تو ایک لاکھ 20 ہزار روپے ہی، مگر مہنگائی کی وجہ سے اس رقم کی قدر کم ہو کر ایک لاکھ 11 ہزار 826 روپے کے برابر رہ جائے گی۔

یوں ایک سال میں اسے اپنی ہی رقم جمع کرنے کے باوجود 8 ہزار 174 روپے کا نقصان اُٹھانا پڑے گا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ سب سے آخر میں کمیٹی لینے والے شخص کو باقی افراد کی نسبت تقریباً ایک کمیٹی کم ملے گی۔

تو لوگ پھر بھی کمیٹیاں کیوں ڈالتے ہیں؟ شائد اس لیے کہ وہ اس سے بہتر آپشن سے متعلق جانتے نہ ہوں۔ مگر اس مضمون میں آگے چل کر ہم بہت سے ایسے آپشنز کا ذکر کریں گے جو بچت کے لیے کمیٹی سسٹم کی نسبت زیادہ بہتر ہیں۔

3۔ بچت کی جھوٹی تسلی 

یہ کم ظاہر ہونے والا مگر اہم عنصر ہے، کمیٹی سسٹم سے لوگوں کو تسلی ملتی ہے کہ وہ بچت کر رہے ہیں مگر اصل  میں ایسا نہیں ہوتا، مہنگائی کے اثر تلے یہ ایسا کریڈٹ کارڈ ہے جس پر شرح سود آپ کو کمیٹی ملنے کے نمبر پر منحصر ہے، وہ الگ بات کہ یہ حقیقی کریڈٹ کارڈ کی نسبت بہتر ہے کیونکہ اس میں شرح سود اصلی کریڈٹ کارڈ کی نسبت بہت کم ہے۔

یہ بھی پڑھیے: 2 سالوں میں حکومتی اخراجات میں 5 ہزار ارب روپے کی بچت کی: مشیر خزانہ

جب بھی لوگ اپنی آمدن میں سے کچھ رقم الگ کرتے ہیں تو انہیں لگتا ہے کہ وہ مالیاتی طور پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بچت کر رہے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ کمیٹیوں کی بدولت قلیل المدتی ضروریات پوری ہوتی ہیں مگر یہ طویل المدتی بچت کا نظام نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قائل کرنے پر زیادہ تر لوگ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ اس سے بچت نہیں ہوتی ہے مگر نفسیاتی طور پر انہیں لگتا ہے کہ وہ اس سے زیادہ بچت کر بھی نہیں سکتے۔

اچھے مالیاتی انتظام کا انحصار ایک انسان کی نفسیات پر ہوتا ہے کیونکہ اس کا تعلق مالیاتی حساب کتاب اور سرمایہ کاری کے طریق کار سے ہوتا ہے، اپنے دماغ کا صحیح استعمال دولت کمانے کی جنگ میں ایک اہم ہتھیار ہے۔

تو بہتر راستہ کیا ہے؟

یہ بات تو واضح ہے کہ جس وقت ہمارے آباؤاجداد نے کمیٹیوں کا استعمال شروع کیا اس وقت وہ بیوقوف نہیں تھے، وہ ایسے زمانے میں جی رہے تھے جس میں مالیاتی نظام  میں بچت کے ذرائع دستیاب نہیں تھے، لہٰذا انھوں نے اس مقصد کے لیے خود سے ایک نظام بنا لیا، اُن کا یہ اقدام لائق تحسین ہے۔

لیکن اگر ہم آج بھی بچت کے لیے انہی طریقوں پر چلتے رہے جن پر ہمارے آباؤاجداد کاربند تھے تو ہم ضرور بیوقوف کہلائیں گے کیونکہ آج کا مالیاتی نظام ہمیں بچت کے لیے درست اور موزوں حکمت عملی اور خدمات فراہم کرتا ہے۔

بچت کے لیے حکمت عملی اور سروسز کے استعمال کا فیصلہ کچھ چیزوں کو مدنظر رکھ  کر کیا جانا چاہیے، اس ضمن میں سب سے پہلے تو قلیل المدتی اور طویل المدتی مالیاتی ضروریات کی تفریق بہت ضروری ہے، جب آپ کمیٹی کی بجائے کہیں سرمایہ کاری کرنے لگیں تو اس ذہن میں رکھیں کہ آپ کا مطمع نظر ایسی سرمایہ کاری ہونی چاہیے جو قلیل المدتی مالیاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے موزوں ہو اور جو طویل المدتی مقاصد کے لیے نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیے: کاروباری خواتین کیلئے سٹیٹ بینک کی ”ری فنانس اینڈ کریڈٹ گارنٹی سکیم“ متعارف

مزید برآں یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ کمیٹی کا متبادل مالیاتی بچت کی دوسری ضروریات کے لیے کی جانے والی انویسٹمنٹ جیسا کہ ریٹائرمنٹ پلان، گھر کی خریداری اور بچوں کی ضروریات کا متبادل نہیں ہے۔

دوسرا یہ کہ صرف درست پراڈکٹ میں سرمایہ کاری کرنا ہی نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا بھی ضروری ہے کہ جب آپ کو ضرورت پڑے آپ اپنی سرمایہ کاری کسی رکاوٹ اور پریشانی  کے بغیر نکال سکیں۔

ایک اور بات اور وہ یہ کہ آن لائن بنک ٹرانسفرز وغیرہ کی صورت میں سرمایہ  کاری چاہے جتنی بھی آسان کیوں نہ ہو، اگر آپ کو یہ کام ہر ماہ خود کرنا پڑے تو ممکن ہے آپ کچھ ماہ ایسا نہ کریں۔

کمیٹیوں میں یہ چیز یعنی کچھ ماہ کمیٹی نہ دینا ممکن نہیں کیونکہ حصہ داروں کا ایک دوسرے سے روزانہ واسطہ رہتا ہے، اس کے علاوہ سماجی دباؤ بھی ایسا کرنے میں ایک رُکاوٹ ہے۔

لہٰذا جب آپ سرمایہ کاری پراڈکٹ کو کمیٹی کا متبادل بنائیں تو اس صورت میں آپ کی ماہانہ سرمایہ کاری مینوئل نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس ضمن میں درکار رقم خود بخود آپ کے اکاؤنٹ سے کٹ جانی چاہیے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ اپنی قلیل المدتی ضروریات کے لیے کچھ نہ کچھ اپنے پاس بچا کر ضرور رکھیں، آمدن میں سے طویل اور قلیل المدتی ضروریات کا حصہ الگ کرنا بہت ضروری ہے، اگر آپ اپنی قلیل المدتی ضروریات کے لیے بہت زیادہ سرمایہ کاری کریں گے تو اس سے آپ کو اپنی طویل المدتی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا ہو گا لہذا توازن نہایت ضروری ہے۔

ہم یہ تجویز کریں گے کہ قلیل المدتی ضروریات کے  لیے آپ کے پاس تین ماہ کی تنخواہ کے برابر پیسے ہونے چاہیں اور اگر آپ کے پاس اتنی رقم نہیں ہے تو آپ کو اسے اگلے تین سال میں اسے جمع کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ آپ کی ماہانہ بچت مستحکم رہے۔

بلاشبہ یہ تو محض ایک مشورہ ہے، آپ ماہانہ بچت اپنی ضروریات اور استطاعت کے حساب سے کر سکتے ہیں مگر ذہن نشین رہے کہ جب کبھی آپ بچت کی ضرورت کا حساب لگائیں تو کسی ایک آدھ ضرورت نہیں بلکہ اپنی تمام ضروریات کو مدنظر رکھیں۔

ہمارا مشورہ ہے کہ بچت کے لیے فکسڈ انکم میوچل فنڈز اور اور ان آٹومیٹڈ ڈیپازٹس کا استعمال کریں جن میں بچت ماہانہ بنیاد پر ہوتی ہو، اس سلسلے میں مارکیٹ میں کئی ایک آپشنز دستیاب ہیں جیسا کہ اسلامک فنڈزوغیرہ۔ اگرچہ ان فنڈز کا ریٹ آف ریٹرن روایتی فنڈز کی نسبت کم ہے۔

اس طرح کے مضامین میں ہم بچت کے لیے کسی ایک فنڈ کی تجویز نہیں دے سکتے کیونکہ ہر فرد کی ضروریات مختلف ہوتی ہیں تاہم ہم یہ ضرور بتا سکتے ہیں کہ کچھ بینک میوچل فنڈز میں آٹومیٹڈ ڈیپازٹس کی سہولت دیتے ہیں اور اس ضمن میں حبیب بنک لمیٹڈ  کی ایپ بہت بہتر ہے۔

آخر میں ہم پھر تجویز کریں گے کہ آپ ناصرف خود کمیٹی سسٹم کو خیرباد کہہ دیں بلکہ اپنے قریبی حلقے میں بھی بچت کے اس پرانے اور ناقص نظام کی جگہ  نئے اور بہتر نظام کے استعمال کی ترغیب دیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here