کراچی پورٹ پر رش، سیمنٹ کی درآمد رک گئی، ایکسپورٹرز کو بھاری نقصان

304

اسلام آباد: کراچی بندرگاہ پر رش ہونے کے باعث بحری جہازوں سے گندم کی ترسیل سست روی کا شکار ہے جبکہ بندرگاہ پر جگہ نہ ہونے کے باعث سیمنٹ کی برآمدات رکنے سے برآمدکندگان کو بھاری نقصان ہورہا ہے۔

پاور سیمنٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر(سی ای او) کاشف حبیب نے وفاقی وزیر برائے بحری امور کو ایک خط میں لکھا ہے کہ کراچی بندرگاہ پر تینوں مقامات پر گندم سے لدھے بحری جہاز لنگرانداز ہیں جہاں درآمدی گندم اتاری جا رہی ہے، بحری جہازوں سے گندم اتارنے میں آٹھ سے نو روز لگیں گے، یہ عمل سست ہونے کی وجہ سے بجری اور سیمنٹ کے بحری جہاز مزید رکنے پر مجبور ہیں۔

کاشف حبیب نے کہا کہ گندم اتارنے کے عمل میں تاخیر اور دستیاب تمام جگہیں خالی نہ ہونے کی وجہ سے 55 ہزار ملین ٹن سیمنٹ اور بجری کی لوڈنگ میں تاخیر ہو رہی ہے، مذکورہ تعمیراتی سامان کی لوڈنگ کے لیے صرف تین سے پانچ روز لگیں گے۔

خط میں انہوں نے لکھا کہ بندرگاہ پر اس وقت کم از کم گندم کے چار بحری جہاز لنگر انداز ہیں جبکہ بندرگاہ پر جگہ نہ ہونے کی وجہ سے بقیہ کے تین بحری جہاز دیگر مقامات پر قطار میں لگے ہیں۔

برآمدکندگان نے وزارتِ سمندری امور سے بجری کے جہاز کو ترجیحی طور پر جگہ دینے کی درخواست کرتے ہوئے تجویز دی ہے کہ ملک میں گندم بحران کی صورت حال اب بہتر ہو گئی ہے لہٰذا وہ گندم کے بحری جہازوں کو کسی دوسری جگہ پر زیادہ سے زیادہ دو برتھ دے دیں جبکہ دیگر برتھ بجری اور سیمنٹ جیسے برآمداتی سامان کے کارگو کو جگہ دیں۔

انہوں نے وزارت کو خط میں لکھا کہ سیمنٹ انڈسٹری نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران بحری راستے سے 5.7 ملین ٹن سے زائد کی برآمدات کی ہیں جس کی مالیت 200 ملین ڈالر ہے۔

یہ بھی مدِنطر رہے کہ گزشتہ کچھ ماہ سے ملک میں گندم بحران کے باعث حکومت نے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹرز کی مدد سے گندم درآمد کرنا شروع کی تھی۔ پاکستان نے اب تک 15 لاکھ ٹن گندم درآمد کی ہے جس میں سے زیادہ تر گندم بندرگاہوں سے اتاری جاچکی ہیں جبکہ آئندہ کچھ ماہ میں مزید دو ملین ٹن گندم درآمد کی جائے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here