آن لائن کلاسیں، دنیا میں ایک ارب 30 کروڑ طلباء انٹرنیٹ سے محروم

113

اقوام متحدہ: کورونا وائرس کی وجہ سے کئی ممالک میں  تعلیمی ادارے بند ہیں اور آن لائن کلاسوں پر زور دیا جا رہا ہے لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں سکول جانے کی عمر کے تقریباً ایک ارب 30 کروڑ بچوں کے پاس گھر میں انٹرنیٹ تک رسائی نہیں ہے جس کے باعث وہ تعلیمی مواقع سے محروم ہیں۔

اس حوالے سے اقوام متحدہ کے فنڈ برائے اطفال (یونیسیف) اور بین الاقوامی ٹیلی مواصلات یونین کی جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تین سال سے 17 سال کی عمر تک کے بچوں کی دو تہائی تعداد کے پاس گھر میں انٹرنیٹ تک رسائی نہیں ہے۔

بلند ترین آمدنی والے ممالک میں سکول کی عمر والے 86 فیصد بچوں کے پاس انٹرنیٹ تک رسائی کی سہولت موجود ہے جبکہ کم ترین آمدنی والے ملکوں میں یہ تناسب چھ  فیصد ہے، افریقہ اور جنوبی ایشیا میں تقریباً 90 فیصد بچوں کی انٹرنیٹ تک رسائی نہیں ہے۔

مذکورہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 25 کروڑ بچوں کو کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران سکول بند ہو جانے کی وجہ سے آن لائن کلاسیں لینا پڑ رہی ہیں۔ یونیسیف کی انتظامی ڈائریکٹر ہینریئیتا فور نے کہا ہے کہ رابطہ کاری کا فقدان بچوں کیلئے تعلیم کے ضیاع کا باعث بنتا ہے۔

 اسی طرح کی صورت حال کا سامنا نوجوانوں کو بھی ہے اور 15 تا 24 سال کے 759 ملین نوجوان کے پاس گھروں میں یہ سہولت حاصل نہیں جو نوجوان کی تعداد کے 63 فیصد کے مساوی ہیں۔

یونیسیف نے کہا ہے کہ بچوں اور نوجوان کو گھر میں انٹرنیٹ کی سہولت کی عدم دستیاب ڈیجیٹل گیپ سے آگے ہے جس سے دنیا کا مقابلہ کرنے اور علم کے حصول میں ان کو مشکلات کا سامنا ہے۔

دوسری جانب افریقی ممالک میں یہ صورت حال مزید پیچیدہ اور سکول جانے کی عمر رکھنے والے ہر 10 میں سے 9 بچوں کو یہ سہولت حاصل نہیں ہے۔ یونیسیف نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ ڈیجیٹل گیپ کے خاتمہ کے لئے جامع حکمت عملی کے تحت اپنا کردار ادا کرے۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here