وزیراعظم کا وزارتِ داخلہ میں بارڈر مینجمنٹ سسٹم کیلئے خصوصی ڈویژن بنانے کا حکم

سرحدوں کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ تجارتی سرگرمیوں بالخصوص پاک افغان تجارت کے فروغ کیلئے عملی اقدامات اٹھانے کی ہدایت

203

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت آزاد اور محفوظ بارڈرز پر یقین رکھتی ہے، بارڈرز کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ تجارتی سرگرمیوں بالخصوص پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کے فروغ کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔

گزشتہ روز وزیراعظم نے موجودہ بارڈر مینجمنٹ سسٹم کو مزید فعال اور بہتر بنانے کے حوالے سے اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کی، اجلاس میں وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان، وزیر اطلاعات شبلی فراز، وزیر داخلہ اعجاز شاہ، وزیر بحری امور علی زیدی اور معاون خصوصی معید یوسف سمیت عسکری و سول حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ 10 مختلف وفاقی وزارتیں اور صوبائی حکومتیں بارڈر مینجمنٹ سے وابستہ ہیں تاہم وفاقی سطح پر بارڈر کے معاملات کو دیکھنے کیلئے کوئی مرکزی ادارہ موجود نہیں۔

اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ پاکستان میں زمینی، ہوائی اور بحری راستوں سے داخل ہونے والے افراد کی تفصیلات ایک جگہ اکٹھا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اجلاس کو مختلف بارڈر کراسنگ پر نصب نظام اور بارڈر فنسنگ پر ہونے والے کام کی پیش رفت سے بھی آگا ہ کیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ غیرقانونی راستوں کی بندش اور سمگلنگ کی روک تھام سے ملکی معیشت کو ایک سال کے دورانیے میں اربوں روپے کا فائدہ ہوا ہے۔

وزیراعظم نے وزارتِ داخلہ میں ایڈیشنل سیکرٹری کی سرپرستی میں بارڈر مینجمنٹ سسٹم کیلئے ایک خصوصی ڈویژن بنانے اور تمام متعلقہ اداروں کو بروقت انفارمیشن/ ڈیٹا شیئرنگ کی ہدایت دی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت آزاد لیکن محفوظ بارڈرز پر یقین رکھتی ہے۔ بارڈرز کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ تجارتی سرگرمیوں بلخصوص پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کے فروغ کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here