’گندم اور چینی درآمد کرنا پڑ رہی، زرعی تحقیق پر توجہ دینا ہو گی‘

314

فیصل آباد: زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہا ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے ایگری بزنس انڈسٹری میں تحقیقی پیش رفت کے نتیجے میں کوئی انقلابی کامیابی سامنے نہیں آ سکی جس کی وجہ سے زرعی پیداواریت کے ساتھ ساتھ ویلیو ایڈیشن میں بھی مستقل جمود طاری ہے جس سے عہدہ برآ ہونے کیلئے زرعی تحقیق و ترقی سے وابستہ سائنسدانوں کو کمیشن ریسرچ پر توجہ دینا ہو گی تاکہ ملک میں زرعی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر کیا جا سکے۔

اے پی پی کے مطابق یونیورسٹی کے گریجوایٹ سٹڈی ریسرچ بورڈ کے اجلاس سے اپنے صدارتی خطاب کے دوران ڈاکٹر اقرار احمد خان نے کہا کہ ملک میں غذائی اجناس کی ہمیشہ دستیابی رہی ہے اور پاکستان خوردنی تیل کے علاوہ چائے اور سویابین وغیرہ درآمد کرتا رہا ہے مگر زرعی شعبے کی زبوں حالی کے نتیجے میں اب گندم اور چینی بھی ملکی ضروریات کیلئے درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کئی سال قبل زرعی یونیورسٹی کی ایک ریسرچ ٹیم نے ان کی سربراہی میں آم کے نئے جرم پلازم اور ورائٹی ڈویلپمنٹ پر کام کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد ایسی نئی اقسام دریافت کرنا تھا جو مختلف مہینوں میں پیداوار دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں لہٰذا یہ کمیشن ریسرچ بالآخر آم کی 10 نئی اقسام کی دریافت کے کامیاب عمل پر اختتام پذیر ہوئی اور آج ہم فخریہ طور پر کہہ سکتے ہیں کہ آنیوالے سالوں میں چونسہ اور سندھڑی کے علاوہ دیگر کئی اقسام ملکی اور غیرملکی ضروریات کیلئے دستیاب ہوں گی۔

ڈاکٹر اقرار احمد خاں نے کہا کہ آموں کے مرکز ملتان اور گردونواح میں رہائشی آبادیوں میں آم کے لاکھوں درختوں کا قتل عام جاری ہے جس سے متعدد اقسام معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زرعی یونیورسٹی گریجوایٹ پروگراموں میں داخلے کیلئے اپنی نئی پالیسی بہت جلد متعارف کرائے گی جس کے تحت ایم ایس سی، ایم فل اور پی ایچ ڈی میں داخلوں کیلئے انٹری ٹیسٹ ہر مضمون میں الگ الگ لینے کی بجائے پانچ چھ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس کے بعد حاصل کردہ نمبروں کو 65 فیصد جبکہ طلباء کی سی جی پی اے کو 35 فیصد اہمیت دی جائے گی۔

ڈاکٹر اقرار نے کہا کہ سی پیک بے پناہ امکانات کا حامل منصوبہ ہے جس میں پاکستانی زرعی شعبے کیلئے بھی بہت زیادہ فوائد موجود ہیں جسے زرعی علوم کی دانش گاہوں کے ذریعے حاصل کرنے کے حوالے سے ٹاسک فورس تشکیل دینا ہو گی۔

وائس چانسلر جامعہ زرعیہ نے کہا کہ چین میں اس وقت 28 ہزار پاکستانی پی ایچ ڈی سکالرز تعلیم و تحقیق میں مصروف ہیں جبکہ ہر سال 25 سو پی ایچ ڈی سکالرشپ نئے سکالرز کو دیئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ ان مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here