راوی ریور پروجیکٹ کی حدود میں آنے والی صنعتوں، رہائشی علاقوں کا کیا بنے گا؟

562

لاہور: راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پروجیکٹ لاہو کی بڑھتی آبادی اور زیرزمین پانی کی سطح میں کمی جیسے مسائل پر قابو پانے کیلئے شروع کیا جا رہا ہے تاہم اس منصوبے کی حدود میں آنے والی صنعتوں اور رہائشی علاقوں کی اراضی حاصل کرنے کے طریقہ کار پر کاروباری برادری نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایل سی سی آئی) میں صنعتکاروں کے مسائل سے متعلق ایک اجلاس منعقد کیا گیا، اس موقع پر صدر لاہور چیمبر میاں طارق مصباح نے کہا کہ مختلف کاروباری حلقوں نے منصوبے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، اس کے اطراف میں صنعتی یونٹس واقع ہیں اور اس علاقے کے اردگرد خاص کر سٹیل یونٹس کو سیل کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کھربوں روپے کا منصوبہ ابھی پلاننگ کے مرحلے میں لیکن  لینڈ ایکویزیشن ایکٹ کے سیکشن 4 کے تحت صنعتی یونٹس کو نوٹسز بھیجے جا رہے ہیں۔

چئیرمین راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی راشد عزیز نے تاجر اور صنعتکار برداری کے تحفظات دور کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے سے کسی بھی صنعت کو نقصان نہیں پہنچے گا اور نہ ہی کسی کی اراضی ناجائز طریقے سے حاصل کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے لاہور کی بڑھتی ہوئی آبادی اور پانی کی قلت کے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی، لاہور سمیت صوبے بھر میں معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لیے اس سکیم پر توجہ دے رہے ہیں، 46 کلومیٹر طویل جھیل بھی اس منصوبے کا حصہ ہے۔

راشد عزیز نے کہا کہ “معلومات اکٹھی کرنے کے لیے ایک سروے کیا گیا ہے اور صنعتوں یا رہائشی علاقوں کے مقامات کی تبدیلی اس منصوبے کا حصہ نہیں ہے۔”

چئیرمین اتھارٹی نے کہا کہ لاہور میں وقت کے ساتھ تیزی سے سرسبز علاقوں کا رقبہ کم ہوا ہے اور شہر میں آبادکاری کی شرح 200 فیصد ہے۔

یہ بھی پڑھیے:

وزیراعظم نے راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھ دیا

5 کھرب کے ’راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ‘ کا افتتاح 

ان کا کہنا تھا کہ راوی پروجیکٹ پر عملدرآمد سے ناصرف شہری ضروریات پوری ہوں گی بلکہ اس سے معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ منصوبے کی مدد سے سموگ اور آبادی کے مسائل سے بھی چھٹکارا ملے گا۔

عزیز نے کہا کہ مقررہ وقت کے اندر منصوبے پر عملدرآمد کرنا حکومت کی ترجیح ہے، حکومتی ترجیحات کو مدِنظر رکھتے ہوئے اعلیٰ سطح پر اس منصوبے کی پیشرفت کو مانیٹر کیا جا رہا ہے اور اس کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ راوی ریورفرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پروجیکٹ پنجاب کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس سے غیرملکی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرنے اور نوکریوں کے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here