کورونا سے تھیم پارکس سمیت انٹرٹینمنٹ انڈسٹری تباہ، ڈزنی کا ہزاروں ملازمین برطرف کرنے کا فیصلہ

کورونا وائرس سے ایونٹ، انٹرٹینمنٹ، سیاحت اور مہمان نوازی کے شعبے بری طرح تباہ، والٹ ڈزنی کو جاری مالیاتی سال کے دوران 7.4 ارب ڈالر آپریٹنگ انکم میں خسارہ ہوا جس میں سے زیادہ تر 6.9 ارب ڈالر ان تھیم پارکس سے آ رہا تھا

110

واشنگٹن: دنیا میں تھیم پارکس کا تصور پیش کرنے والی امریکی کمپنی والٹ ڈزنی نے کورونا وائرس کے باعث اپنے 30 ہزار سے زائد ملازمین کو برطرف کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

یو ایس سکیورٹی اینڈ ایکسیچنج کمیشن میں رجسٹرڈ والٹ ڈزنی کے مطابق اکتوبر میں شروع ہونے والی رواں سال کی پہلی ششماہی میں کمپنی 32 ہزار ملازمین کو نکالنے جا رہی ہے، زیادہ تر ملازمین تھیم پارکس سے نکالے جائیں گے، یہ تعداد اس سے قبل کمپنی کے اعلان سے چار ہزار زیادہ ہے۔

کورونا وائرس کی تباہ کاریوں کے باعث انٹرٹینمنٹ شعبے کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگ چکا ہے اور دن بدن بڑھتی ہوئی غیریقینی کے باعث ڈزنی نے شمالی کیلیفورنیا میں واقع ڈزنی لینڈ سے اضافی ملازمین کو فارغ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

امریکی اداروں نے یہ نہیں بتایا کہ مستقبل میں تھیم پارکس کو کھولنے کی اجازت دی جائے گی یا نہیں، شنگھائی، ہانگ کانگ اور ٹوکیو میں کمپنی کی جانب سے چلائی جانے والی تھیم پارکس کھلی رہیں گی جبکہ شمالی امریکہ میں تمام 12 پارکس مارچ سے مئی کے درمیان بند رہیں گی۔

فلوریڈا اور پیرس میں واقع ڈزنی لینڈ کو رواں سال اس سے قبل کھول دیا گیا تھا لیکن بعد ازاں کورونا وائرس کی دوسری لہر کی وجہ سے گزشتہ ماہ فرانسیسی حکام کی جانب سے دوبارہ سے لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا ہے جس کے باعث ان ڈزنی لینڈ کو پھر سے بند کر دیا گیا ہے۔

کمپنی نے اس سے قبل رپورٹ میں کہا تھا کہ جاری مالیاتی سال کے دوران وبا کے باعث 7.4 ارب ڈالر کمپنی کی آپریٹنگ انکم ختم ہوگئی جس میں سے زیادہ تر 6.9 ارب ڈالر ان تھیم پارکس سے آ رہی تھیں۔

ایونٹ اور انٹرٹینمنٹ انڈسٹریز کے بعد سیاحت، مہمان نوازی کے شعبے بھی کورونا وائرس کی وجہ سے سب سے زیادہ بری طرح متاثر ہوئے ہیں، کاروباروں کی آمدنی 80 فیصد سے زائد ختم ہو گئی ہے جو نوکریوں سے ہاتھ دھونے کی عکاسی کر رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں

Please enter your comment!
Please enter your name here